menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mulki Siasi Manzar Nama

18 0
saturday

سیاست ایک ایسے نازک دوراہے پر کھڑی ہے جہاں سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات، امن و امان کے چیلنجز اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش نے قومی معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال اس مجموعی سیاسی بحران کا ایک اہم اور حساس پہلو بن چکی ہے۔ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری کشیدگی نے صوبائی سیاست کو قومی سیاست کا مرکز بنا دیا ہے۔ جبکہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے حالات کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ایسے حالات میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قوتیں باہمی اختلافات کو آئینی اور جمہوری دائرے میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا ملک ایک مرتبہ پھر محاذ آرائی کے ایسے سلسلے میں داخل ہو رہا ہے جس کا نقصان بالآخر عام شہریوں کو اٹھانا پڑے گا؟

وفاقی حکومت کے فیصلے کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری نے صوبے میں ہنگامی حالت نافذ کرنے اور گورنر راج کے اقدامات کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کا جواز دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں مبینہ عدم تعاون اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو قرار دیا۔ جبکہ تحریک انصاف نے اسے اپنے سیاسی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے خلاف اقدام قرار دیا۔ 15 اکتوبر کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے بھی متعلقہ قراردادوں کی منظوری دے دی۔ یوں صوبے میں وفاقی مداخلت محض سیاسی بیان بازی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ اس نے آئینی، قانونی اور جمہوری سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے خیبرپختونخوا کے مخصوص حالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی، مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، شہریوں اور........

© Daily Urdu