menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tareeq Un Nijat

18 0
21.09.2026

خواجہ حسن جان سرہندیؒ ایک علمی و روحانی خانوادہ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت ہیں۔ آپ مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور شیخ زینی بن دحلان مکیؒ کے شاگرد تھے، آپ تحریک خلافت اور پھر تحریک پاکستان میں شامل رہے، بالخصوص سندھ میں ان دونوں تحریکوں کو مقبول بنایا۔ یاد رہے تحریک خلافت کے تو آپ حامی تھے مگر تحریک ہجرت کی مخالفت کی۔ آپ کا وصال پاکستان بننے سے ایک سال پہلے ہوا۔

مجھے خواجہ صاحبؒ سے محترم سراج الدین امجد صاحب نے متعارف کرایا۔ "طریق النجات" خواجہ صاحبؒ کی پہلی کتاب ہے جو پڑھی، اس کا اردو ترجمہ خواجہ صاحبؒ کے فرزند پیر ہاشم جان مجددیؒ نے کیا ہے۔ پیر ہاشم جان مجددی رح، علامہ الہند مولانا معین الدین اجمیریؒ کے شاگرد تھے۔ مولانا اجمیریؒ شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالویؒ کے بھی استاد ہیں۔ گویا خواجہ سیالویؒ اور پیر ہاشم جان مجددیؒ آپس میں استاد بھائی بھی تھے۔

کتاب کے آغاز میں ایمان بالغیب پر بات کی ہے اور یہاں پر عقل انسانی کی محدودیت کا بھی ذکر کیا ہے۔ عقل بیشک اللہ تعالیٰ کا انعام ہے مگر اس کی حدود ہیں۔ جن لوگوں نے اس کی محدودیت کا خیال نہیں کیا انھوں نے اسلام کو سمجھنے میں ٹھوکر کھائی۔ اس میں بالخصوص خواجہ صاحبؒ نے نیچریہ اور اپنے آپ کو اہل قرآن قرار دینے والوں پر نقد کیا ہے۔ نیچریہ کے متعلق یہ بھی لکھا کہ یہ اپنی طبیعت کو ہی مذہب گردانتے ہیں۔

ایسے ہی منکرین حدیث کے دوسرے طبقات کا بنیادی مسئلہ عقل کو لامحدود سمجھنا اور اس کو مختار کل قرار دینا........

© Daily Urdu