Pakistan: At The Crossroads
پاکستان: ایٹ دا کراس روڈز
کرسٹوف جیفرلیٹ فرانس سے تعلق رکھتے ہیں اور جنوبی ایشیا اور پھر اس میں بھی پاکستان اور بھارت کی سیاست پر خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے لکھے گئے بین الاقوامی جرائد میں لکھے کچھ منتخب مضامین کو انہوں نے PAKISTAN: AT THE CROSSROADS میں جمع کیا گیا ہے۔
کتاب کے دو حصے ہیں پہلا حصہ پاکستان کے داخلی سیاست کے متعلق ہیں جبکہ دوسرے حصے میں وطن عزیز کے خارجی امور پر گفتگو کی گئی ہے۔ کل گیارہ مضامین میں سے چھے مضامین پہلے حصے میں ہیں جبکہ باقی پانچ دوسرے حصے میں شامل ہیں۔
شروع میں کرسٹوف جیفرلیٹ نے اس کتاب کا تعارف پیش کیا ہے کہ جس میں اس نے پاکستان داخلی و خارجی معاملات، سول ملٹری تعلقات، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اس سے پہلے افغان سویت جنگ، ایٹمی پروگرام کے حوالے سے باتیں کی ہیں۔ اس میں ایک اہم بات پاکستان کا فلاحی ریاست سے سیکورٹی ریاست میں بدلنے کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے حیدرآباد اور جونا گڑھ کو زبردستی شامل کرنے کے بعد پاکستان کے فیصلے سازوں کی توجہ سیکورٹی سٹیٹ بنانے پر لگا دی اور یہ ایک لحاظ سے معقول اور منطقی بات بھی ہے کیونکہ جب تک آپ کے ملک کی سرحدیں محفوظ نہ ہوں تو فلاحی ریاست کا تصور خام خیالی ہے۔
سول ملٹری کشمکش پاکستان کے تناظر میں ایک ہاٹ ٹاپک ہے، اس پر بھی کرسٹوف جیفرلیٹ نے کہا ہے کہ ملٹری کا سیاسی مہم جوئی اپنے حدود سے تجاوز ہے مگر دوسری جانب سویلین قیادت بھی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے اگر مارشل لاء پر عوامی احتجاج سامنے نہیں آتا۔
پہلا مضمون عاقل شاہ کا ہے جو کہ سول ملٹری تعلقات کے اوپر ہے۔ اس مضمون میں عاقل شاہ نے فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہاں سویلین حکومت کو بھی جمہوری حکومت کہنا نامناسب ہے۔ یہاں جمہوریت کا لفظ فقط مارشل لاء سے ممتاز کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سویلین حکومت کے ادوار میں بھی کئی معاملات پر فوج کا فیصلہ کن کردار رہا ہے۔ مطلب فوجی اقتدار کے بغیر بھی فوج کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سویلین حکومت اور اس کی حزب اختلاف دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کو مضبوط بنائیں مگر فی الحال کوئی حکومت اور حزب اختلاف اس کو حقیقی جمہوری انداز میں چلانے میں کامیاب نہیں ہوئی اور ان کی کمزوری ہی فوج کو حدود سے تجاوز کا موقع دیتی ہے۔
دوسرا مضمون محمد وسیم کا ہے جس میں پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندرونی اسٹرکچر اور ان کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس مضمون میں بنیادی طور پر بڑی سیاسی جماعتوں نواز لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف پھر چھوٹی جماعتوں میں سے متحدہ قومی موومنٹ، جمعیت، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کی سیاسی ساخت اور ان کی تاریخ کو مختصر ذکر کیا گیا ہے۔
تیسرا مضمون کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ اوڈنبرگ جس میں........
