menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bano

28 0
30.10.2026

رضیہ بٹ اپنے زمانے کی پاپولر فکشن رائٹر تھیں، انہوں نے متعدد ناول لکھے۔ "بانو" میرے نزدیک ان کا سب سے اہم ناول ہے۔ اس کی وجہ اس کا موضوع ہے۔

رضیہ بٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی تحریریں باقی پاپولر لکھاریوں کی طرح بہت کم عرصے تک اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے مگر "بانو" اس لحاظ سے الگ ہے۔ وجہ اس کی کہانی اور اس کا موضوع ہے۔ یہ موضوع تحریک پاکستان اور تخلیق پاکستان کے متعلق ہے۔ پاکستان کس قدر مشکلات اور قربانیوں سے حاصل کیا گیا اس ناول میں اس کی ایک جھلک ملتی ہے۔

یہ کہانی ہے بانو اور حسن کی، جو لدھیانہ کے رہنے والے تھے، یہ غالباً 1945 اور 1946 کا زمانہ تھا، جب تحریک پاکستان عروج پر تھی۔ حسن اور بانو رشتے دار ہونے کے ساتھ ایک محلے میں بھی رہتے تھے۔ حسن کی رشتے کی خالہ ثریا کی بانو کے بھائی حسن سے شادی ہوتی ہے تو وہاں پر حسن اور بانو کی ہوئی اتفاقی ملاقات پسندیدگی و محبت میں بدل جاتی ہے۔ ایک محلے میں رہتے ہوئے پہلے بھی دونوں نے ایک دوسرے کو کئی بار دیکھا ہوتا ہے مگر اس بار دیکھنا کوئی الگ سا تھا، بانو جو پہلے حسن کو حسن بھائی کہتی تھی حسن کہنے لگ جاتی ہے۔ حسن اور بانو کا بھائی سلیم بھی بچپن کے دوست ہوتے ہیں۔

حسن اور بانو تحریک پاکستان کے سرگرم رکن ہوتے ہیں، بالخصوص حسن جو بہت مدلل انداز میں پاکستان کا مقدمہ لڑتا ہے۔ بانو اس کے مدلل انداز تقریر سے بہت متاثر ہو کر پاکستان کی جدوجہد میں شامل ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف بانو کا بھائی سلیم اپنے بچپن کے ہندو دوستوں کے ساتھ ملکر متحدہ ہندوستان کا داعی ہوتا ہے۔ وہ کانگریس اور گاندھی کی عظمت کا قائل ہوتا ہے اور جگہ جگہ اپنے ہم مذہب لیگی دوستوں سے الجھتا ہے۔ حسن اور سلیم اکثر اس مسئلہ پر بحث کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا تحفظ متحدہ ہندوستان میں ہے یا پھر پاکستان میں۔

سلیم اپنے رشتے داروں میں اکیلا کانگریسی ہوتا ہے جبکہ باقی سب خاندان لیگی ہوتا ہے۔ اس دوران انتخابات ہوتے ہیں اور مسلم لیگ مسلم نشستیں جیت جاتی ہے جو کہ اس کی مقبولیت کی ضمانت ہوتی ہے۔ یہ فقط لیگ کی مقبولیت نہیں تھی بلکہ قائد اعظمؒ کے بیانیے اور پاکستان کی ضرورت کی بھی مقبولیت و جیت تھی۔ اس دوران ہی حسن اور بانو کا رشتہ طے ہو جاتا ہے اور دونوں گھروں میں طے پاتا ہے کہ دسمبر میں نکاح ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی حسن مقابلے کا امتحان پاس کرتا ہے تو راولپنڈی میں اس کی نوکری لگ جاتی ہے۔ حسن اپنی ماں کے ساتھ لدھیانہ سے پنڈی چلا جاتا ہے، مگر یہ لوگ لدھیانہ چھوڑنے پر اس لیے افسردہ نہیں ہوتے کیونکہ بعد میں ایک........

© Daily Urdu