Rookhi Sookhi Ke Shukar Se Na Shukri Ke Toofan Tak
روکھی سوکھی کے شکر سے ناشکری کے طوفان تک
موجودہ دور، جس میں انسان علم و ہنر کی بلندیوں کو چھو رہا ہے اور معلومات کے ایک بے پناہ سمندر میں غوطہ زن ہے، ایک طرف ترقی و سہولیات کے بے شمار در وا کر چکا ہے تو دوسری طرف یہی دور انسان کے لیے فکری اور اخلاقی لحاظ سے سخت ترین آزمائش بن کر ابھرا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کی اس رنگین اور پرفریب دنیا میں جہاں ایک طرف علم اور آگہی کا فروغ نظر آتا ہے، وہیں دوسری طرف چند فکری روگ اور نظریاتی فتنے اتنی خاموشی اور صفائی سے پھیلائے جا رہے ہیں کہ عام انسان کو ان کی ہلاکت آفرینی کا اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔
کبھی بے بنیاد اعداد و شمار اور گھڑے ہوئے جائزوں کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ معاشرے میں بے دینی کی لہر آ چکی ہے اور کبھی مغربی فلسفے کی سطحیت کو روشن خیالی کا نام دے کر ہماری نئی نسل کو اس کی علمی، ثقافتی اور دینی جڑوں سے کاٹنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ دراصل کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک ایسا مربوط فکری حملہ ہے جس کا مقصد نئی نسل کے دلوں سے یقین کا چراغ بجھانا اور انہیں شکوک و شبہات کے دلدل میں دھکیلنا ہے۔
تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب بھی کسی قوم کی علمی اور فکری بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور جب وہ دلیل کی بجائے محض جذباتی نعروں یا روایتی جمود پر انحصار کرنے لگتی ہے، تو وہ بیرونی اور اندرونی نظریاتی یلغار کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل کی فکری تربیت کے جدید تقاضوں کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ ہم نے انہیں یہ تو سکھایا کہ باتوں کو ماننا کیسے ہے، لیکن یہ نہیں سکھایا کہ بات کے پیچھے چھپی حکمت اور دلیل کو کیسے سمجھنا ہے۔ جب ایک نیا ذہن معلومات کے اس کھلے میدان میں قدم رکھتا ہے، تو اس کا سامنا طرح طرح کے شکوک، اعتراضات اور تشکیک سے ہوتا ہے۔ وہاں ایسے سوالات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ ایک غیر تربیت یافتہ اور سطحی معلومات رکھنے والا ذہن فوری طور پر الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس پس منظر میں ذرا اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں تو ایک دور وہ بھی تھا جب ہمارے بزرگوں اور اسلاف کا یہ حال تھا کہ وہ پیٹ پر پتھر........
