menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khalaa Se Khet Tak: China Ki Khalai Gandum Aur Hamari Siasi Dhund

26 0
04.07.2026

خلا سے کھیت تک: چین کی خلائی گندم اور ہماری سیاسی دھند

خیالی اور مہم جوئی پر مبنی داستانوں میں اکثر پڑھنے کو ملتا ہے کہ انسان ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے، چاند پر بستیاں بسا رہا ہے اور کہکشاؤں کے اسرار معلوم کر رہا ہے۔ یہ کہانیاں پڑھنے کی حد تک تو بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، لیکن حقیقی دنیا میں ہمارے پڑوسی ملک چین نے ایک ایسا رخ اختیار کیا ہے جس نے دنیا بھر کے زرعی ماہرین اور پالیسی سازوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چین نے خلا کو تسخیر کرنے کے بعد اسے صرف خلائی اسٹیشنوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس مہم جوئی کو اپنے کسان کے ہل، مٹی اور کھیت سے جوڑ دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں بین الاقوامی ابلاغ عامہ پر چلنے والی "خلائی گندم" اور خلائی بیجوں کی خبریں کوئی افسانہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ٹھوس سائنسی حقیقت ہیں جس نے چین کو غذائی طور پر دنیا کی ایک بڑی طاقت بنا دیا ہے۔ چین پچھلے چند دہائیوں سے خلائی افزائشِ نسل کی ٹیکنالوجی پر خاموشی اور مستقل مزاجی سے کام کر رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت گندم، چاول، کپاس اور مختلف سبزیوں کے روایتی بیجوں کو خلائی جہازوں اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے زمین سے سینکڑوں کلومیٹر اوپر خلا میں بھیجا جاتا ہے۔ وہاں کائناتی شعاعوں کی بھرمار اور کششِ ثقل کے نہ ہونے کے اثر سے بیجوں کے اندرونی خلیات میں قدرتی طور پر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جب یہ بیج زمین پر واپس لائے جاتے ہیں، تو ان میں سے بہترین کا انتخاب کرکے کھیتوں میں بویا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جو گندم تیار ہوتی ہے، وہ کم پانی میں، شدید ترین موسم میں اور خطرناک بیماریوں کے خلاف لڑ کر عام فصل سے دگنی پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چین کی تیار کردہ ایسی ہی خلائی گندم آج ان کے کروڑوں ایکڑ رقبے پر لہرا رہی ہے، جس نے ان کے گوداموں کو اناج سے مالامال کر دیا ہے اور وہ اپنی ڈیڑھ ارب آبادی کو اپنے بل بوتے پر پال رہا ہے۔

لیکن جب چین کے ان جدید اور خلائی کھیتوں سے نظریں ہٹا کر اپنے وطنِ عزیز کے زرعی، معاشی اور سیاسی منظرنامے پر ڈالتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور عقل حیران رہ جاتی ہے۔ جہاں ہمارے بالکل پڑوس میں زراعت زمین کی حدود کو توڑ کر خلا کی وسعتوں کو چھو........

© Daily Urdu