Jang e Baqa Mein Kisan Kahan?
جنگِ بقا میں کسان کہاں؟
کالم نگاری کا اصول ہے کہ سچ بولنا ہی کافی نہیں، سچ کو ننگا کرنا پڑتا ہے۔ ہم ستر برس سے ایک ہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ ہم نے سمجھا کہ بندوق سے مسائل حل ہوتے ہیں۔ آج تاریخ ہمیں ایک اور موڑ پر لے آئی ہے۔ اب کھیل بدل چکا ہے۔ ریاستِ پاکستان نے بالاخر سمجھ لیا ہے کہ دشمن سے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا خودکشی کے مترادف ہے۔
لیکن اس "جنگِ بقا" میں ہم اس طبقے کو بھول رہے ہیں جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور وہ ہے پاکستان کا کسان۔ ریاست اپنی رٹ بحال کر رہی ہے، "پیکا ایکٹ" کے ذریعے بیانیے کو کنٹرول کر رہی ہے، مگر کیا کبھی کسی نے سوچا کہ جس کسان کے کھیت میں گندم کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے، اس پر کیا بیت رہی ہے؟
کسان کی کہانی سنیں گے تو کلیجہ منہ کو آئے گا۔ وہ ابھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے سنبھلا بھی نہ تھا، جس نے اس کے گھر بار، اس کی جمع پونجی اور اس کے خواب سب بہا دیے تھے۔ وہ ابھی ان ڈوبے ہوئے مکانوں کے........
