Sadar e Mumlikat Ke Eterazat Aur Bill Ki Parliman Se Manzoori
پارلیمانی جمہوریت کی اصل قدر مجھے روایتی سیاستدانوں کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود 1985ء کے برس ہوئے غیر جماعتی انتخاب، کی بدولت وجود میں آئی قومی اسمبلی کی کارروائی کے بغور مشاہدے کی بدولت نصیب ہوئی تھی۔ جنرل ضیاء کی سخت گیر آمریت کے دبائو تلے وجود میں آئی اس اسمبلی کی کارکردگی یاد کرتے ہوئے گزشتہ تین دہائیوں سے جمہوریت اور عوامی حقوق کے اپنے تئیں اصلی تے ووڈے چمپئن بنے افراد کے رویے کا جائزہ لیتا ہوں تو شرم محسوس ہوتی ہے۔ بتدریج بلکہ یہ سوچنا شروع ہوگیا ہوں کہ پارلیمانی بالادستی، کے ایسے محافظوں کے ہوتے ہوئے آدھا تیتر آدھا بٹیر نظر آتے حکومتی بندوبست کو کسی بھی نوعیت کا کوئی خطرہ لاحق ہونے کے دور دور تک امکانات موجود نہیں ہیں۔ موجودہ حکومتی بندوبست کے محافظ سیاستدانوں کے تنقیدی جائزے سے قبل مگر اپنے(صحافت کے) گریبان میں جھانکنا بھی ضروری ہے۔
خبر، کے حوالے سے انگریزی کے پانچ الفاظ کلیدی شمار ہوتے ہیں جو اسی زبان کے حرف W سے شروع ہوتے ہیں۔ سادہ ترین الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ خبر، کے لیے پڑھنے ا ور سننے والوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ کب اور کہاں کس (اہم) شخص نے کس موضوع پر کیا بات کی یا کون سا قدم اٹھایا۔ اس فارمولے کو ذہن میں رکھیں تو خبر، کے لیے اردو کے حرفک، سے شروع ہونے والے چھے سوالات کا جواب فراہم کرنا لازمی ہے۔
مذکورہ فارمولہ ذہن میں رکھتے ہوئے اس حقیقت پر بھی توجہ دیں کہ گزرے ہفتے جمعہ کی صبح پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا تھا۔ اسے بلوانے کی وجہ صدر مملکت کی جانب سے پارلیمانی نظرثانی، کے لیے بھجوائے تین قوانین کی منظوری تھی۔ ان میں سے ایک قانون ملک بھر میں وزیر اعظم شہبازشریف کے پسندیدہ دانش، سکولوں کا جال پھیلانے کا خواہاں تھا۔ بقیہ دو کا........
