Qissa Kuch Awail e Umar Ke Qisson Aur 14 August Ke Awards Ka
کچھ تذکرہ اوائل عمر کے قصّوں اور 14 اگست کے ایوارڈز کا
گزشتہ ہفتے کا آغاز ہوتے ہی پیر کی شام سے میرے لئے فکر مندی کے مراحل شروع ہوگئے۔ رات 8بجے کے قریب علم ہوا کہ ہمارے گھر میں بجلی کی عدم موجودگی کی وجہ لوڈشیڈنگ نہیں تھی۔ نہ ہی اس کا سبب اسلام آباد میں بجلی کی ترسیل کا نظام تھا۔ کوئی شخص ہمارے گھر کے باہر نصب نیٹ میٹر کی تاریں کاٹ کر لے گیاتھا۔ بجلی فراہم کرنا اس کے بعد آئیسکو کی ذمے داری نہ رہی۔ مجھے ہنگامی حالات میں تقریباََ بند ہوئی ایک دکان سے کاریگر بلانا پڑا۔ پسینے میں شرابور اس کے ساتھ تین سے زیادہ گھنٹے کھڑا رہا۔ نہایت لگن اور توجہ کے با وجود وہ بارہ بجنے سے چند لمحے قبل آدھے گھر کی بجلی بحال کرسکا۔ کامل نظام بحال کرنے میں منگل کی دوپہر 4 گھنٹوں تک ایک بار پھر بغیر بجلی کے رہنا پڑا۔
ذاتی پریشانیوں کے بارے میں اخبار ہی میں نہیں بلکہ دوستوں کے ساتھ ذکر سے بھی گریز کو ترجیح دیتا ہوں۔ نیٹ میٹرنگ سے گھروں تک بجلی لے جانے والی تاروں کی چوری میرے لئے مگر نئی بات تھی۔ اس کے بارے میں لکھنے کو مجبور ہوگیا۔ کالم چھپ گیا تو سوشل میڈیائی تلنگوں نے حسب عادت نہایت رعونت سے یاددلانا شروع کردیا کہ عام آدمی ایسے اذیت ناک تجربات سے دن میں کئی بار گزرتا ہے۔ میں نے صحافی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ذاتی دُکھوں کا ڈھول بجانے کے لئے اخبار کو استعمال کیا۔
تلنگوں کے نفرت بھرے تبصروں کے باوجود 13اگست 2026ء کی صبح چھپے کالم کو قارئین کی کثیر تعداد نے نہایت شفقت سے پڑھا۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر آپ کے قارئین کی تعداد بیان کردی جاتی ہے۔ میں جان بوجھ کر تعداد کا ذکر نہیں کروں گا۔ محض یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہوں کہ حالیہ تین مہینوں میں جو کالم لکھے ہیں انہیں پڑھنے والوں کی کل تعداد سے بھی کہیں زیادہ اس ایک کالم کو پڑھا گیا۔
قارئین کی متاثر کن تعداد کے علاوہ اس کالم پر کمنٹ کرتے ہوئے اَن گنت افراد نے اپنے ساتھ بجلی کے تار........
