Nashir Sarban Ki Yaad Taza Karti America Ki Waqti Garm Joshi
بشیر ساربان کی یاد تازہ کرتی امریکہ کی وقتی گرم جوشی
ناسازی طبع کی وجہ سے صبح اٹھتے ہی کھانسی اور چھینکوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ اس کی وجہ سے معمول کے مطابق یہ کالم لکھنے کی ہمت مفقود رہی۔ دو دن کا ناغہ ہوگیا۔ دیرینہ اور مہربان قارئین سے معافی کی التجا۔ اگرچہ اب یہ خیال بھی اکثرستانا شروع ہوگیا ہے کہ میں جب اس گلی سے نہ گزروں گا تو کون سوچے گا وغیرہ وغیرہ۔ اداس کن باتوں سے صبح کا آغاز مگر اچھا نہیں۔ ذہن میں جمع ہوئی یادوں میں سے ایک کا ذکر آج کے حالات میں شاید آپ کو پسند آئے اور کچھ سوچنے کو بھی اُکسائے۔
جس یاد کا ذکر ہونا ہے وہ ایک یارِ مہربان کی بدولت چند روز قبل ذہن میں ابھری تھی۔ ہماری شناسائی کا آغاز 1970ء کی دہائی میں ہوا تھا۔ آتش ہم دونوں کا ان دنوں ضرورت سے زیادہ جوان تھا اور سرخ انقلاب پاکستان کی دہلیز پر بیٹھا ہماری جرا ت کا انتظار کرتا محسوس ہوتا۔ کئی دہائیوں تک پھیلی مایوسی اور دل شکستگی کے بعد آج بھی ہم دونوں باہم مل بیٹھتے ہیں تو 1970ء کی دہائی کے ذکر ہی میں مصروف رہتے ہیں۔ چند دن قبل کھانے کی محفل پر طویل ملاقات ہوگئی۔ اِن دنوں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات کے سوا کچھ زیر بحث آہی نہیں سکتا اور اس تناظر میں ذکر پاکستان کا بھی جس کی ثالثی اور غیر جانبداری کا ان دنوں دنیا بھر میں شکرگزاری کے جذبات کے ساتھ ذکر ہورہا ہے۔
میری نسل عبداللہ حسین کی بیان کردہ اداس نہیں بلکہ شکست خوردہ نسل ہے۔ دودھ کی جلی ہونے کی وجہ سے چھاچھ کو بھی حلق میں انڈیلنے سے قبل پھونکوں سے ٹھنڈا کرنے کی عادی۔ پاکستان کے لئے عالمی سطح پر جاری شکر گزاری کا ذکر ہو تو میرے دوست کو بشیر ساربان یاد آگئے۔ اس کے ذکرکے بعدگفتگو ایک بار پھر ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے امکانات کی جانب پلٹ گئی۔ میرا ذہن مگر گھر لوٹ کربھی کئی گھنٹے ان دنوں کو یاد کرتا رہا۔
1961ء کا برس تھا۔ میں دوسری جماعت کا طالب علم تھا۔ اخبار مگر فرفر پڑھ لیتا۔ اس کی وجہ سے ہمارے محلے کے ایک نائی اور کلچے کے تندور والا اکثر سکول سے آتے ہوئے مجھے روک کر اپنے ہاں آئے اخبار کو بلند آواز سے پڑھ........
