menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Likhna?

19 0
02.06.2026

بہت کوشش کے باوجود اس کالم نگار کا نام یاد نہیں کرپارہا۔ کاہلی کی نحوست مسلط نہ ہوچکی ہوتی تو انکل گوگل کو زحمت دے کر نام معلوم کیا جاسکتا تھا۔ یہ سوچ کر مگر کوشش نہ کی کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ اصل بات جو بتانا ہے وہ یہ ہے کہ موصوف برطانیہ سے شائع ہونے والے گارجین اخبار کے بہت دھانسو کالم نگار ہوا کرتے تھے۔ 1980ء کی دہائی کے آغاز میں انہیں سرطان کے موذی مرض کا شکار بتاتے ہوئے ڈاکٹروں نے دنیا سے رخصت ہونے کو تیار کیا۔ اپنے کالموں سے طاقتور سیاستدانوں کی بھد اڑانے والے اس کالم نگار نے مگر ہمت نہ ہاری۔ فیصلہ کیا کہ جب تک زندہ ہے لندن رہنے کے بجائے اپنے ملک کے تقریباََ ہر گائوں میں کچھ دن گزارنے کے بعد وہاں کی زندگی کو کالموں میں بیان کرے گا۔ ٹھکانے بدل بدل کو دیہی زندگی کے بارے میں اس کے لکھے کالموں نے لندن کی اشرافیہ کو حیران وپریشان کردیا۔ ذاتی محفلوں میں اعتراف کرنے کو مجبور ہوئے کہ وہ اپنے ہی ملک کے ٹھوس حقائق سے قطعاََ غافل ہیں۔

1980ء کی دہائی شروع ہوتے ہی میں نے بھی لندن میں 16سے زیادہ ماہ گزارے تھے۔ ارادہ تھا کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کروں گا۔ کل وقتی صحافت کی مگر لت لگ چکی تھی۔ وطن لوٹنے کو بے قرار رہتا۔ بدھو بالآخر لوٹ کر گھر کو آیا تو اسلام آباد کے روزنامہ "دی مسلم" کا رپورٹر ہوگیا۔ سیاست ان دنوں پابند تھی۔ اخبار چھپنے سے پہلے سنسر کے لئے بھجوایا جاتا۔ میں نے سفارتی وثقافتی تقاریب کے بارے میں کالم لکھنا شروع کردئے۔ ان کی وجہ سے دانشور تصور ہونے کے باوجود بہت چائو سے جرائم کی خبریں ڈھونڈنے کا جنون بھی جاری رکھا۔

ہمارے اخبار کی لائبریری کے لئے برطانوی سفارتخانے کا شعبہ ابلاغ ٹائمز اور گارجین اخبار بھجوایا کرتا تھا۔ شائع ہونے کے تقریباََ ایک یا دو روز بعد ہماری لائبریری میں میسر ہوتے۔ نیوز ایڈیٹر ان سے رجوع کرنا وقت کا زیاں شمار کرتے۔ میں انگریزی زبان پر گرفت کے حصول کے لئے ان اخبارات کا بے تابی سے منتظر رہتا۔ دونوں اخبار ہاتھ لگتے ہی مگر سب سے........

© Daily Urdu