KPK Mein Governor Raj
خیبر پی کے میں گورنر راج
اتوار کی صبح 8 بجنے سے چند منٹ قبل یہ کالم لکھنے کو قلم اٹھالیا ہے۔ ہفتے کی سہ پہر سے مگر ریگولر اور سوشل میڈیا میں قیاس آرائی شروع ہوگئی تھی کہ ایوانِ صدر میں وزیر اعظم کی اپنے سینئر معاونین سمیت صدر مملکت سے ملاقات کے بعد "اہم فیصلوں" پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج میں سے کسی ایک کے نفاذ کے بجائے ان دونوں کے چند اجزائے ترکیبی کے امتزاج سے ایک نیا نسخہ تیار کیا جائے گا۔ نسبتاََ پرامن اضلاع گورنر راج کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔ افغان دراندازی کی وجہ سے مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے اضلاع کو تاہم ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد وفاق کی جانب سے براہِ راست چلائے انتظام کے سپرد کردیا جائے گا۔
ہنگامی حالات اور گورنر راج کے منصوبے پر مشتمل نظام کا ذکر کئی دنوں سے اسلام آباد کے سازشی ڈرائنگ روموں میں ہورہا تھا۔ اس کے ٹھوس خدوخال مگر "آف دی ریکارڈ" بریفنگوں میں شریک ہوئے سینئرترین صحافی بھی سمجھنے اورہم عامیوں کو سمجھانے میں ناکام رہے ہیں۔ آئین کی شق 232اور 234کے امتزاج سے خیبرپختونخوا کے لئے جو حکومتی بندوبست متعارف کروایا جائے گا اس کے بارے میں تبصرہ آرائی کی لہٰذا گنجائش نہیں۔
حکومت اور تحریک انصاف کے مابین چند روز قبل دو دن اور 13گھنٹوں تک جاری رہے مذاکرات کے انجام پر لیکن ایک حقیقت عیاں ہوگئی تھی اور وہ یہ کہ خیبرپختونخوا میں اب آئینی معمول کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہیں رہا۔ جواں سال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے مگر اس پیغام کا سیاسی جواب فراہم کرنے سے........
