menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jamhuri Hukumaton Ki Bartarfi Ki Kahani

18 0
yesterday

جمہوری حکومتوں کی برطرفی کی کہانی

اہم خبروں کی تلاش میں ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں پھیرے 1985ء سے لگانا شروع کردئیے تھے۔ اس برس جنرل ضیاء نے 8 سالہ مارشل لاء کے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروادئے تھے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں موصوف کے بنائے منصوبے کے تحت قائم ہوگئیں تو محض تین سال بعد اپنی ہی تخلیق کو "ناکارہ اور بدعنوان" ٹھہراتے ہوئے تحلیل کردیا۔ اس کے بعد کیا کرنا ہے؟ یہ طے کرنے سے قبل ہی وہ فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

ان کی وفات کے بعد مقتدرہ نے براہ راست اقتدار سنبھالنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو نئے انتخابات میں شمولیت کی اجازت دے کر "جمہوری نظام"بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ عوام کی منتخب کردہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار مگر صدر کے پاس ہی رہا۔ مذکورہ اختیار کے نتیجے میں صدر غلام اسحاق خان نے محترمہ بے نظیر کی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد نواز حکومت کو بھی برطرف کردیا۔ آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے تیار کئے ایک فارمولے کے تحت صدر غلام اسحاق خان اور نواز شریف اس کے نتیجے میں اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔

نئے انتخابات کی بدولت محترمہ بے نظیر بھٹو ایک بار پھر وزیر اعظم کے دفتر براجمان ہوگئیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے دیرینہ اور قدآور سردار فاروق خان لغاری کو ایوان صدر میں بٹھایا۔ انہیں حکومت برطرف کرنے کے حوالے سے مگر وہی اختیارمیسر رہا جو جنرل ضیاء اور غلام اسحاق خان تین حکومتیں گھر بھیجنے کے لئے استعمال کرچکے تھے۔ اسی اختیار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سردار لغاری نے بھی محترمہ کی دوسری حکومت کو آئینی مدت مکمل کئے بغیر گھر بھیج دیا۔ نئے انتخابات ہوئے۔ ان کے نتیجے میں نواز شریف ایک بار پھر "ہیوی مینڈیٹ" کے ساتھ وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔

اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے صدر کا حکومتیں توڑنے والا اختیار آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کردیا۔ اپنے دورِ اقتدارمیں انہوں نے ایک آرمی چیف- جہانگیر کرامت- کو بھی استعفیٰ دینے کو مجبور کیا۔ نئے آرمی چیف جنرل........

© Daily Urdu