Iran Ke Khilaf D Day Ka Americi Elan
ایران کے خلاف "ڈی ڈے" کا امریکی اعلان
تاریخ کا سنجیدہ طالب علم نہیں ہوں۔ دنیا کے طاقتور ملکوں کے فیصلہ کن رہ نمائوں کی جانب سے چند اصطلاحات کا استعمال مگر اس سے رجوع کرنے کو مجبور کردیتا ہے۔ دو روز قبل بھی ایسے ہی ہوا۔ اتوار کی رات پیر کی صبح کی جانب بڑھ ر ہی تھی تو آنکھ کھل گئی۔ وقت گزاری کے لئے موبائل دیکھا تو ایک مہربان دوست نے امریکی وزیر تجارت -سکاٹ بیسنٹ- کا دنیا بھر کے سرمایہ کاروں میں مقبول اخبار "فنانشل ٹائمز" کے لئے لکھا ایک مضمون واٹس ایپ کے ذریعے بھیج ر کھا تھا۔
مذکورہ مضمون تہران کانفرنس کے ذکر سے شروع ہوا۔ امریکی وزیر تجارت کے بقول اس میں اُن دنوں کے امریکی صدر روز ویلٹ اور برطانوی وزیر اعظم چرچل شریک ہوئے تھے۔ باہمی ملاقاتوں کے بعد دونوں نے فیصلہ کیا کہ ہٹلر کے جرمنی کو شکست دینے کے لئے فیصلہ کن پیش قدمی کی ضرورت ہے۔
جس "تہران کانفرنس" کا ذکر امریکی وزیر تجارت نے کیا وہ 1943ء میں ہوئی تھی۔ چرچل اور روز ویلٹ جرمنی کو فیصلہ کن شکست دینے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لئے برطانیہ یا امریکہ کے کسی شہر میں بھی مل سکتے تھے۔ تہران کا انتخاب اس لئے ہوا کیونکہ وہاں ہوئی سربراہ کانفرنس میں کمیونسٹ روس کے سٹالن نے بھی شریک ہونے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ سرمایہ دارانہ کیمپ سے نفرت کے باوجود روسی وزیر اعظم اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ دنیا کو حقیقی خطرہ فی الوقت ہٹلر اور اس کے فسطائی نظام سے ہے اور انسانیت کی بقاء کے لئے اس کے تمام مخالفین کا یکجا ہونا ضروری ہے۔
سٹالن کی شمولیت کے بعد فیصلہ یہ ہوا کہ روسی افواج مشرقی جرمنی پر بھرپور جنگ مسلط کریں گی۔ دریں اثناء امریکہ اور برطانیہ ہٹلر کے قبضے میں گئے فرانس........
