Imf Ke Rozmarra Zindagi Mazeed Dushwar Banane Ke Mashware
آئی ایم ایف کے روزمرہ زندگی مزید دشوار بنانے کے مشورے
مارگلہ پہاڑی کی آغوش میں ایک قدیمی گائوں ہے۔ نام ہے اس کا شاہ اللہ دتہ۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے یہاں کئی غار دریافت کررکھے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کئی صدیاں قبل ٹیکسلا میں قائم بدھ ازم کی تعلیم کے لئے قائم ہوئی یونیورسٹی کی جانب سفر کرنے والے ان غاروں میں تھکان دور کرنے کو قیام کیا کرتے تھے۔
تاریخ کو بھلاکر دورِ حاضر کی جانب لوٹتے ہیں۔ اس گائوں میں میری بیوی کو اس کے شفیق والد نے زمین کا کچھ رقبہ خرید کردیاتھا۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا پھنے خان صحافی مشہور ہوا داماد ازخود اسلام آباد میں اپنا مکان تعمیر نہیں کر پائے گا۔ ان کا انتقال ہوگیا تو ٹی وی صحافت اختیار کرنے کی وجہ سے میری آمدنی میں قابل قدراضافہ ہوا تو میں اس گماں میں مبتلا ہوگیا کہ مذکورہ رقبے پر خوش حال لوگوں کی طرح "فارم ہائوس" بنائوں گا۔
ریٹائر ہونے کے بعد فطرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے زندگی کے آخری دن یہاں گزارے جائیں گے۔ وقت نے مگر ایسا ستم کیا ہے کہ سفید پوشی کا بھرم بحال رکھنا ناممکن ہوچکا ہے۔ "فارم ہائوس" تعمیر کرنے کے بجائے اس رقبے کو قبضہ سے بچانے کیلئے وہاں جاتا ہوں۔ جی بہلانے کو کچھ جانور بھی رکھ لئے ہیں اور تجرباتی طورپر گھر میں استعمال کی سبزیاں اُگانے کی کوشش بھی کرتا رہتا ہوں۔ اس تناظر میں بھی ہر "پراجیکٹ" اب تک ناکام رہا ہے۔ پانی کی نایابی اور ایماندار ملازمین کی عدم دستیابی بھی میری ناکامی کی وجوہات میں شامل ہیں۔
ویسے بھی گزشتہ کئی برسوں سے شاہ اللہ دتہ "دیہات" نہیں رہا۔ سی ڈی اے کے آباد کئی سیکٹروں کے مقابلے میں یہاں زمین سستے داموں مل جایا کرتی تھی۔........
