Hukumat Ke Hosh Urane Wala Supreme Court Ka Faisla
حکومت کے ہوش اْڑانے والا سپریم کورٹ کا فیصلہ
بدھ کی صبح چار بجے تیز بارش سے گھبرا کر اٹھ گیا۔ گھر کی دہلیز پر بیٹھا سوچتا رہا کہ بارش کا پانی اگر سیلاب بن کر گھر میں گھس آیا تو کیا کروں گا۔ چند حفاظتی تدابیر نے جی کو تھوڑا مطمئن کیا تب بھی نیند نہیں آئی۔ توجہ یہ کالم لکھنے کی جانب مبذول کردی۔
بدھ کا دن کئی حوالوں سے ہماری سیاسی اور عدالتی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک شمار ہوسکتا ہے۔ منگل کی سہ پہر سپریم کورٹ کے تین معزز ججوں نے باہم مل کر حکم دیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید ہوئے عمران خان کو ان کی ترجیح کے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ اسلام آباد میں ان کی ترجیح کا ہسپتال عالمی شہرت کا حامل ہے۔ سرکار کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔ جدید ترین آلات سے لیس اس ہسپتال میں تقریباََ ہر مرض کے بہترین معالج موجود ہیں۔
مزید لکھنے سے قبل بیان کرنا لازمی ہے کہ پیر کے دن حکومت ہی کی جانب سے تشکیل کردہ ڈاکٹروں کے بورڈ کی جو رپورٹ سپریم کورٹ کے دفتر جمع کروائی گئی اس پر سرسری نگاہ ڈالتے ہی میں یہ طے کرنے کو مجبور ہوا کہ اسے پڑھنے کے بعد عدالتِ عالیہ کا تین رکنی بنچ تحریک انصاف کو ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ میری رائے کا سبب "ذرائع" نہیں ذاتی تجربہ تھا۔
16برس قبل مجھے فشار خون کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ اس کے علاج کے لئے ناشتے کے ساتھ روزانہ ایک گولی کی تشخیص ہوئی۔ دوائی کے علاوہ دن میں کم از کم 30منٹ چہل قدمی کا حکم بھی ملا۔ ڈاکٹروں نے جلد سونے اور ٹی وی کے علاوہ موبائل فون کی سکرین سے بھی زیادہ سے زیادہ گریز تجویز کیا۔ صحافتی دھندے کے تقاضوں کی وجہ سے مذکورہ ہدایات پر لیکن عمل نہ کرپایا۔ ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھ کر یہ کالم لکھنے اور ٹی وی سکرینوں پر تبصرہ........
