Hukumat Ka Petroleum Nirkhon Mein Mazeed Izafe Se Gurez
حکومت کا پٹرولیم نرخوں میں مزید اضافے سے گریز
پرانی وضع کا صحافی ہوتے ہوئے میں احمقانہ خوداعتمادی کے ساتھ پیش گوئیاں سنائی دیتی "خبریں " دینے سے گھبراتا ہوں۔ گزرے ہفتے کا آخری کالم لکھتے ہوئے مگر دل ودماغ کو یہ فکر لاحق تھی کہ مجھ سمیت وطن عزیز کے کروڑوں دیہاڑی دار اس خوف سے گھبرائے ہوئے ہیں کہ حال ہی میں پٹرول کی قیمت میں 55روپے کے قیامت خیز اعلان کے بعد حکومت "مزید" کا ارادہ باندھے ہوئے ہے۔ حکومت کی ترجمانی کا مجھے شوق نہیں۔ ویسے بھی وہ معاشی معاملات کے تناظر میں سرکار مائی باپ کا کردار ادا کرتے ہوئے خلق خدا کی پریشانیوں کا حل ڈھونڈنے کے بجائے مختلف دھندوں کے اجارہ دار سیٹھوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے۔ اس تلخ حقیقت کے بخوبی ادراک کے باوجود تیل کی قیمت میں حال ہی میں ہوئے ریکارڈ اضافے کا اسے واحد ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔
تیل، ڈیزل، گیس اور پٹرول کے حوالے سے روس کے یوکرین پر فروری 2022ئکے حملے کے بعد سے مسلسل پریشان ہوئے عوام کی مشکلات میں تازہ اضافے کا اہم ترین سبب امریکہ اور اسرائیل کی رواں ماہ کے آغاز کے ساتھ ایران پر مسلط کی جنگ ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ایران نے اپنے ساحل کے انتہائی قریب واقع آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کا فیصلہ کیا۔ کئی مقامات پر یہ آبنائے 3سے پانچ کلومیٹر سے زیادہ چوڑی نہیں۔ وہاں سے بسااوقات فقط ایک ہی بھاری بھر کم جہاز گزرکرسمندر کے گہرے پانیوں کا رخ کرتے ہوئے منزل مقصود کی جانب اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔
ایران پر حملہ کرنے سے قبل اسرائیل اور ا مریکہ مگر یہ سوچنے کی زحمت اٹھاتے نظر نہیں آئے کہ اپنے اوپر جنگ مسلط ہوتے ہی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز سے تیل برادر جہازوں کی ٹریفک پر کامل کنٹرول کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مذکورہ فیصلہ کا کوئی توڑ ڈھونڈنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔ ایران نے اس کے ذریعے ہوئی ٹریفک پر اپنا حق اختیار اجاگرکرنے کا فیصلہ کیا تو جہازوں کی انشورنس کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔
انشورنس کی........
