Hamare Zehan Saz Ab Yaqeen Kar Lein Ke Qayamat Tal Gayi Hai
ہمارے "ذہن ساز" اب یقین کر لیں کہ قیامت ٹل گئی ہے
پیر کی شام کئی گھنٹوں تک سرپکڑے انتہائی دُکھی دل کے ساتھ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا کہ سوشل میڈیا پر چھائے پاکستانی "ذہن ساز" یہ حقیقت تسلیم کرنے کو آمادہ کیوں نہیں ہورہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان "آخری معرکہ"فی الحال ملتوی ہوگیا ہے۔ اچھی خبر یہ بھی ہے کہ ایک غریب اور مقروض ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان نے امریکہ اور ایران کو قیامت خیز معرکہ ٹالنے کے لئے مائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
منگل کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کم نہ ہوئی ہوتی تو اس وقت امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی 48گھنٹوں کی مہلت ختم ہوچکی ہوتی۔ آبنائے ہرمز نہ کھولنے کا ذمہ ایران کے کاندھوں پر ڈالتے ہوئے وہ دنیا کو "سستے تیل" کی فراہمی یقینی بنانے کے نام پر تہران اور اصفہان جیسے تاریخی اور گنجان آباد شہروں کو بجلی مہیا کرنے والے نظام پر حملے شروع کردیتا۔
ایران نے ممکنہ حملوں کے جواب میں ہمارے کئی برادر خلیجی ممالک میں سمندر کے پانی کو انسانی استعمال کے قابل بنانے والی تنصیبات کے نام لے کر انہیں تباہ کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ مذکورہ اعلان کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت تھی کیونکہ چند ہی روز قبل اس نے جنوبی فارس میں گیس کے ذخائر پر ہوئے حملوں کے جواب میں اسی علاقے کے شمال میں گیس پیدا کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ بدلے کی آگ سے مغلوب ہوکر کئے ان حملوں نے قطر سے دنیا کو فراہم ہونے والی گیس کا 17فیصد سپلائی کے قابل نہ چھوڑا۔ وہاں سے پیداوار بحال کرنے کے لئے اب تین سے پانچ سال درکار ہوں گے۔ مرمت اربوں ڈالر کا تقاضہ بھی کرے گی۔
آبنائے ہرمز کو 48گھنٹے کی دھمکی سے کھلوانے میں ناکام ہوکر امریکی صدر ایران کے شہروں کو بجلی مہیا کرنے والا نظام تباہ کرنے کو ڈٹ جاتا تو لاکھوں انسان پتھر کے زمانے میں لوٹ جاتے۔ دیوار سے لگاایران اس کی وجہ سے خلیجی ممالک میں سمندر کے پانی........
