menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Farhatullah Babar Ki Kitab Aur Benazir Ki Shahadat

40 1
12.01.2026

پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ فرحت اللہ بابر صاحب انتہائی قریب رہے ہیں۔ بطور رپورٹر لیکن مجھے ان سے کبھی اندر کی بات، جاننے کی جرأت ہی نہیں ہوئی۔ ان کا منکسرالمزاجی کے ساتھ گرم جوش مصافحے کے بعد فوراً دوسرے کاموں میں مصروف ہوجانا بہت مہذب انداز میں پیغام دیتا کہ وہ گپ شپ کے لیے میسر نہیں۔ برسوں کی شناسائی کے باوجود ان کے اپنے کام سے کام رکھنے کے انداز نے مجھے ان کو دوستوں کی صف میں شمارکرنے کا حوصلہ ہی نہ دیا۔

2018ء کے برس سے مگر جب عمران حکومت کے دوران مجھ پر کڑاوقت شروع ہوا تو بتدریج یہ دریافت کیا کہ ان کا رویہ میرے ساتھ بہت مشفقانہ ہے۔ غالباً اسی باعث انھوں نے گزشتہ برس آصف علی زرداری کے بارے میں جو کتاب لکھی تھی اسے بہت محبت سے مجھے بھجوایا۔ ان کی مذکورہ کتاب میں چند ایسے فقرے بھی تھے جنھیں چغل خوروں نے آصف علی زرداری کی ہتک شمار کیا۔ اس کتاب کو لیکن دو مرتبہ غور سے پڑھنے کے بعد اصرارکرتا ہوں کہ بابر صاحب کی کتاب کسی بھی حوالے سے زرداری صاحب کی تحقیر نہیں کرتی۔ چغل خور درباری مگر مردہ بھائی کا گوشت، کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔

آصف صاحب پر لکھی کتاب کے بعد بابر صاحب نے ایک کتاب منیر احمد خان کے بارے میں بھی لکھی ہے۔ وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بانیوں میں نمایاں ترین تھے۔ بابر صاحب نے ان کے ساتھ صحافیوں سے رابطے استوار رکھنے کا فریضہ کئی برسوں تک انجام دیا۔ منیر احمد خان میرے سسر مرحوم ڈاکٹر محمود سلیم جیلانی کے پرانے دوستوں میں شامل تھے۔ ان کی بدولت منیر احمد خان کی زندگی سے جڑی کئی کہانیاں سنی ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ان کے کردار کو میری دانست میں مناسب انداز میں سراہا نہیں گیا۔ شاید بابر صاحب نے اپنی کتاب میں اس کا ازالہ کردیا ہوگا۔ منیر احمد خان صاحب کے بارے میں فرحت اللہ بابر صاحب کی لکھی کتاب جب مجھے ملی تو میں اپنے بلڈپریشر کے بے قابو ہونے سے گھبرا چکا تھا۔ کتاب کئی روز میرے سرہانے پڑی رہی اور میں دن میں کئی بار اپنا بلڈپریشر چیک کرنے ہی میں مصروف رہا۔ اب حالات بہتر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ امید تھی کہ ہفتہ اتوار کی چھٹیوں میں منیر صاحب پر لکھی کتاب پڑھوں گا۔

ہفتے کی دوپہر مگر گھروالوں کے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھاتھا تو دروازے کی گھنٹی بجی۔ ملازم باہر گیا تو پیکٹ........

© Daily Urdu