Dobara Janam Leta Aabna e Hormuz Ka Qaziya
دوبارہ جنم لیتا آبنائے ہرمز کا قضیّہ
امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں پر مشتمل تنظیم نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے صدر ٹرمپ بدھ کے روز ترکیہ کے دارلحکومت انقرہ میں موجود تھے۔ نیٹو کے امور پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے موصوف غیر ملکی سربراہان سے باہمی ملاقاتوں کے بہانے ایک نہیں پانچ مرتبہ کیمروں کے روبرو آئے اور ہذیانی ہوئے ایران کو انتہائی غیر سفارتی زبان میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ طیش کے عالم میں اس ملک کو "اسلامیہ جمہوریہ جاپان" بھی پکارا۔
ٹرمپ کے طیش بھرے اضطراب کا سبب منگل کی شام سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر ہوئے حملے تھے۔ ایران نے براہ راست سعودی عرب اور قطر کے آئل ٹینکروں پر ہوئے حملوں کی تردید نہیں کی۔ محتاط زبان میں لکھے ایک بیان سے فقط یاد دلایا کہ پاکستان اور قطر کی کاوشوں سے تیار ہوئی مفاہمتی یادداشت نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کے لئے لازمی ٹھہرایا ہے کہ وہ ایران کو اپنی نقل وحرکت سے آگاہ کرے گا۔ ایران سے رابطے کے بعد ایسی گزرگاہوں کا تعین ہوگا جہاں سے بحری جہاز بحفاظت گزرسکتے ہیں۔ ایران کو مطلع کئے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں، کشتیوں اور تیل بردار ٹینکروں کی حفاظت یقینی نہیں بنائی جاسکتی۔
سفارتی زبان میں تیار ہوا ایرانی بیان درحقیقت منگل کی........
