Dil e Khush Fehm Ki Tawaquat Ke Baraks Gambhir Tar Hote Iran America Mamlat
دلِ خوش فہم کی توقعات کے برعکس گھمبیر تر ہوتے ایران امریکہ معاملات
دل خوش فہم کو یقین تھا کہ امریکہ اور ایران جان چکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو پچھاڑ نہیں سکتے۔ مذاکرات کے ذریعے دیرپا امن کی تلاش ہی واحد راستہ بچا ہے۔ وسوسوں بھرا ذہن مگر اس سوچ پر سوال اٹھاتا رہا۔ پیشہ وارانہ فرائض نبھانے کی وجہ سے ایران اور خلیجی ممالک کے چند سفر ان سوالات کو منطقی بنیادیں بھی فراہم کرتے رہے۔ میرے نہایت قابل احترام دوستوں کی اکثریت تاہم مصر رہی کہ بالآخر معاشی مفادات اور مجبوریاں ہی فریقین کو اپنی تاریخی عصبیت بھلاکر کسی نہ کسی نوعیت کے سمجھوتے کو مجبور کردیں گی اور میرے پاس ان کے تجزیے جھٹلانے کو ٹھوس دلائل میسر نہیں تھے۔
امریکہ کے ساتھ پاکستان، قطر اور چند بردار ممالک کی معاونت سے سوئٹزرلینڈ میں تیار ہوئی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران نے میرے دوستوں کو درست ثابت کردیا۔ مذکورہ یادداشت کی بدولت ایران پر 47 برس سے نافد ہوئی اقتصادی پابندیاں ختم ہونے کا آغاز نظر آیا۔ امریکہ نے اس کی بحری ناکہ بندی ختم کردی۔ اسے عالمی منڈی میں اپنا تیل اور گیس فروخت کرنے کی مہلت بھی میسر ہوگئی۔ امید تھی کہ مذاکراتی عمل بالآخر ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کا مکمل خاتمہ یقینی بنادے گا۔ عالمی منڈی میں خلیجی ممالک کے علاوہ ایران کا تیل اور گیس بھی بکنا شروع ہوجائیں گے۔ قدرتی وسائل کی بازار میں فراوانی مسابقت کی دوڑ کی بدولت تیل اور گیس کی قیمتوں کو پاکستان جیسے غریب ممالک کے لئے قابل برداشت بنا دے گی اور یوں........
