menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Balochistan Dehshatgardi, Ghair Mulki Hath Ya Ehsas e Mehroomi?

14 1
03.02.2026

آخری مرتبہ بلوچستان 2010ء کے آغاز میں گیا تھا۔ نواب اسلم رئیسانی ان دنوں وہاں کے وزیر اعلیٰ تھے۔ صوبائی حکومت آج کی طرح پیپلز پارٹی کی سمجھی جاتی تھی۔ مکران کے ثقافتی مرکز تربت میں اس برس ایک ناخوشگوار واقعہ ہوگیا۔ اس سے مشتعل ہوکر انتہا پسند تنظیموں نے دھمکی دی کہ مذکورہ واقعہ کے بعد کسی "پنجابی" کو بلوچستان کی زمین پر قدم رکھنے سے قبل سوبار سوچنا چاہیے۔ جس وقت یہ دھمکی دی گئی میں کراچی کے ایک ٹی وی سٹوڈیو میں بیٹھا لائیو شو کررہا تھا۔

وقفے کے دوران تڑی کی خبر ملی تو پروگرام دوبارہ شروع ہوتے ہی یہ بڑھک لگادی کہ کل صبح کراچی سے اسلام آباد لوٹنے کے بجائے تربت جارہا ہوں۔ وہاں سے بلوچستان کے دیگر شہروں خصوصاََ ساحلی پٹی میں واقع گوادر وغیرہ بھی جانے کا ارادہ ہے۔ جس ٹی وی چینل کے لئے کام کررہا تھا، میری دیدہ دلیری سے گھبراگیا۔ افسری اختیار کرنے کے بجائے اس کی انتظامیہ نے خلوصِ دل سے سمجھانے کی کوشش کی کہ بلوچستان جانے کا پنگا نہ لیا جائے۔ "آتش" ان دنوں مگر بجھتے چراغ کی طرح اکثر پھڑپھڑانا شروع ہوجاتا تھا۔ سکرین پر لگائی بڑھک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ڈٹ گیا۔

مشتاق منہاس نے اس پروگرام کے شریک میزبان کی حیثیت میں جنونی حد تک میرا ساتھ دیا اور دوسری صبح ہم تربت پہنچ گئے۔ سولہ سال قبل ہوئے اس سفر کی بدولت بلوچستان کی پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی صورتحال کے بارے میں بہت کچھ جان کر دیانتداری سے رپورٹ کردیا۔ سرکار کی مہربانی سے خود کو سنسر کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ حالات اب بدل چکے ہیں۔ گزشتہ دس برسوں سے بلوچستان کے بارے میں پرانے انداز کی رپورٹنگ معدوم ہوچکی ہے۔ اب عام صحافی سے زیادہ بلوچستان "ماہرین"کے سپرد ہوچکا ہے۔ ان کی اکثریت تاریخ، سماجیات........

© Daily Urdu