Baat Nikal Kar Bohat Door Chali Gayi Hai
بات نکل کر بہت دْور چلی گئی ہے
اپنے پائوں پر کلہاڑا مارنا کوئی ہمارے سیاستدانوں سے سیکھے۔ وہ بخوبی آگاہ تھے کہ ہمارے حساس ترین اور شہ رگ تصور ہوتے آزادکشمیر میں ایک تحریک جاری ہے۔ بے تحاشہ حوالوں سے واجب نظر آتی شکایتوں کی بنیاد پر چلی یہ تحریک بتدریج انتہا پسندی کی راہ پر چل نکلی۔ مذاکرات کے ذریعے کچھ لو کچھ دو کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے "تخت یا تختہ" کی ضد اپنائی تو کالعدم اور متشدد تنظیموں سے منسلک افراد اس کی صفوں میں گھس کر بالآخر ریاست کو للکارنے لگے۔
ریاستی رٹ بحال کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے فیصلہ یہ ہوا کہ آزادکشمیر میں انتخابات ہر صورت "بروقت" ہونگے۔ "بروقت انتخابات" کے لئے اپنائی ضد ان ہی سیاستدانوں نے اپنائی جو آئینِ پاکستان کی ان شقوں کو 2002ء کے بعد حقارت سے نظرانداز کرتے رہے تھے جو قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے تحلیل ہوجانے کے بعد ہر صورت "نوے دنوں " میں نئے انتخابات کا تقاضہ کرتی ہیں۔ حساس اور شہ رگ کہلاتے آزادکشمیر میں جبکہ جائز وجوہات کی بنیادپر "بروقت" کی گردان بھلاتے ہوئے ریاستی رٹ کی بحالی پر توجہ مرکوز رکھنا درکار تھی۔
منتخب حکومت کی جستجو میں انتخابی عمل کو لیکن مرحلہ وار کروانے کا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے کا اعلان ہوتے ہی اس کالم........
