menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Abna e Hormuz Ki Bandish Aur Article 19 A Ka Taqaza

47 0
17.03.2026

آبنائے ہرمز کی "بندش" اور آرٹیکل 19 اے کا تقاضہ

صحافت کا دھندا اختیار کرنے کے پہلے ہی روز سے میں نے ہمیشہ برجستہ لکھا۔ خبر ہو یا کالم ایک ہی نشست میں روانی سے لکھ ڈالا۔ لکھنے کے بعد زبان کی درستگی اور مشکل الفاظ کے آسان متبادل ڈھونڈے اورمدیران کے حوالے کردیتا۔ میری تحریروں کی وجہ سے سیاست دان اگرحکومت کے وزیر ہوتے تو عموماََ خفا یا کھچے کھچے رہتے۔ اپوزیشن کا حصہ بن جانے کے بعد مگر ان ہی کی نگاہ میں صوفی منش حق گو شمار ہونا شروع ہوجاتا۔ تین سے زیادہ دہائیوں تک گزاری یہ زندگی اب رائیگاں کا سفر محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔ صبح اٹھتے ہی قلم اٹھالینے کے بعد لکھنے کی میز پر بیٹھے موضوع اور اس کا ابتدائیہ طے کرنے میں بہت وقت صرف ہوجاتا ہے۔ ابتدائی فقرے لکھ لینے کے بعدبھی کئی بار ہاتھ روک کر خود کو تسلی دینا لازمی ہے کہ "اس گلی" میں تو نہیں گھس گیا جہاں جانے سے بقول غالب دین ودل عزیز رکھنے والے کو گریز کرنا چاہیے۔

انجانے خوف سے مائوف ہوئے ذہن کو تسلی دینے کے بجائے مزید گھبرانے کے لئے چند دن قبل دو وفاقی وزراء اور ایک وزیر مملکت نے طولانی پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ صاحب اس کے دوران بارہا یاد دلاتے رہے کہ ہر ملک کی صحافت کے لئے وہاں کے آئین اور قانون کا احترام لازمی ہے۔ آزادی اظہار کسی معاشرے کی اجتماعی ثقافت بھی نظرانداز نہیں کرسکتی۔ اس ضمن میں تارڑ صاحب نے جو مثال دی مجھ بے وقوف کو بے تکی سنائی دی۔ انہوں نے فرمایا کہ یورپ کے کئی ممالک میں شہریوں کو بے لباس گھومنے کی آزادی ہے۔ پاکستان میں لیکن یہ عمل معاشرے کیلئے مخرب اخلاق ہی نہیں بلکہ غیر قانونی بھی شمار ہوگا۔

ان کا فرمان سنتے ہی مجھے بے شمار یورپی ممالک یاد آگئے جہاں پیشہ وارانہ تقاضوں کی بدولت بارہا جانے........

© Daily Urdu