menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kiraye Ki Khushiyan

16 0
yesterday

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، کرائے کی خوشیوں کا رجحان۔ یہ وہ خوشیاں ہیں جو حقیقت میں ہماری نہیں ہوتیں، مگر ہم انہیں کچھ لمحوں کے لیے اپنا ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے، جہاں ہر شخص اپنی زندگی کو ایک مکمل اور مثالی کہانی بنا کر پیش کرنے میں مصروف ہے۔

آج کا انسان اصل خوشی کے بجائے اس کی نمائش پر زیادہ یقین رکھتا ہے۔ وہ مہنگے کپڑے، قیمتی موبائل فون، عالی شان ریسٹورنٹس اور خوبصورت مقامات کی تصاویر لگا کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ خوش ہے، کامیاب ہے اور مطمئن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی چیزیں عارضی ہوتی ہیں، یا بعض اوقات صرف دکھاوے کے لیے حاصل کی جاتی ہیں۔

یہ کرائے کی خوشیاں انسان کو وقتی سکون تو دیتی ہیں، مگر اندر سے وہ خالی ہی رہتا ہے۔ جب وہ اکیلا ہوتا ہے، تو اسے اپنی حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ وہ دوسروں کو دکھا رہا ہے، وہ مکمل سچ نہیں ہے۔ یہی تضاد اسے بے چینی اور مایوسی کی طرف لے جاتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے اصل خوشیوں کو خود ہی نظر انداز کر دیا ہے۔ والدین کے ساتھ گزارا گیا وقت، دوستوں کے ساتھ سادہ سی بیٹھک، یا کسی کی مدد کرکے حاصل ہونے والی خوشی، یہ سب وہ لمحات ہیں جو دل کو سکون دیتے ہیں، مگر ہم انہیں اہمیت نہیں دیتے کیونکہ ان میں دکھاوے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

معاشرے کا دباؤ بھی اس مسئلے کو بڑھا رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنی زندگی کا معیار طے کرتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس کچھ زیادہ ہو، تو دوسرا بھی وہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے اپنی حقیقت سے دور ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یوں ہم ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رک کر سوچیں، کیا ہم واقعی خوش ہیں، یا صرف خوش نظر آنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہمیں اپنی زندگی کو دوسروں کے معیار پر نہیں بلکہ اپنی حقیقت کے مطابق جینا ہوگا۔ اصل خوشی وہی ہے جو دل کو سکون دے، نہ کہ وہ جو صرف آنکھوں کو اچھی لگے۔

اگر ہم نے وقت پر اس رجحان کو نہ روکا، تو ہم اپنی اصل پہچان کھو بیٹھیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سادگی کو اپنائیں، اپنی حقیقت کو قبول کریں اور ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو اہمیت دیں جو زندگی کو خوبصورت بناتی ہیں۔ کیونکہ آخر میں، خوشی وہ نہیں جو دکھائی جائے، بلکہ وہ ہے جو محسوس کی جائے۔


© Daily Urdu