menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jogindar Paul Ki Saalgirah Aur Unka Novel Nadeed

30 0
08.09.2026

جوگندر پال کی سالگرہ اور ان کا ناول "نادید"

پانچ ستمبر کو جوگندر پال کی سالگرہ تھی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے جاوید آفتاب اور رضا نعیم نے، اسی روز، ان کے لیے پاک ٹی ہاؤس میں ایک تقریب رکھی۔ مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ جوگندر پال، پانچ ستمبر 1925ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم کے بعد انبالہ گئے۔ تقدیر انھیں انبالہ سے کینیا لے گئی۔ چودہ برس، وہاں تدریسی اور دوسری ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد، ہندوستان واپس آئے۔ اگلا پڑاؤ اورنگ آباد تھا، جہاں وہ انگریزی پڑھاتے رہے۔

جب پچپن سال کے ہوئے تو کینیا سے ملنے والی پنشن دگنی ہوگئی تو اورنگ آباد کی ملازمت ترک کردی اور دہلی منتقل ہوگئے۔ طبیعت میں لالچ نہیں تھا۔ اب کل وقت، ادب کو دینے لگے۔ ادب کو کل وقت دینے کا مطلب، روزانہ چودہ اٹھارہ گھنٹے لکھنا پڑھنا نہیں ہے۔ یہ تو سراسر مشقت ہے۔ ادب کو کل وقت دینے کا مطلب، اپنے عام، اوسط، بہترین اور بدترین تجربات کو بہترین اسلوب میں لکھنے کی فرصت کا حامل ہونا ہے۔

انھوں نے خود وفاتیہ (self-obituary) لکھا، جس میں انھوں نے سیالکوٹ، انبالہ، کینیا، اورنگ آباد اور دہلی میں اپنے قیام کو جنموں کا چکر کہا ہے۔ گویا انھوں نے اس فانی حیات میں پانچ جنم لیے۔ 2016ء میں انھیں جنم چکر سے موکش ملا۔

جوگندر پال سے میرا تعارف 1990ء کی دہائی میں ہوا، جب میری تحریریں وزیر آغا کے رسالہ "اوراق" میں شائع ہونا شروع ہوئیں۔ (اتفاق یہ ہے کہ آج ہی آغا صاحب کی برسی ہے)۔ معاصر اردو ادیبوں سے میری شناسائی اور کی تعلق کی ابتدا "اوارق" ہی سے ہوئی۔

جوگندر پال کے افسانے، "اوراق" میں باقاعدگی سے شائع ہوا کرتے۔ ان کے افسانچے اور آج کا فلیش فکشن، "نہیں، رحمٰن بابو" کے عنوان سے، چھپا کرتے۔ ان میں سے کچھ تو دو سطروں کے اور کچھ چھ سات سطروں اور کچھ دس بارہ سطروں تک کے ہوا کرتے۔ وہ زبان، تھیم، اسلوب، تکنیک ہر اعتبار سے غیر معمولی تھے۔ ان کی فکشن نگاری کی بصیرت اور مہارت کا عروج کہے جاسکتے ہیں۔

2007ء میں گوپی چند نارنگ کی دعوت پر، ساہتیہ اکادمی کے فراق گورکھ پوری سیمینار میں شرکت کے لیے، پہلی بار دہلی گیا۔ جوگندر پال سے، خاص طور پر ملنے ان کے گھر بھی گیا۔ وہ ایک طویل یادگار ملاقات تھی۔ اس کی اکثر باتیں بھول گئی ہیں، مگر ان کا مہربان، شائستہ، نرم، دھیما لہجہ اب تک یاد ہے۔

وہ کسی شکوے، کسی دعوے، کسی فخر کے بغیر مجھ سے کافی دیر باتیں کرتے رہے۔ ان کی اہلیہ کرشنا جی اور ممتاز فکشن نگار جیلانی بانو سے بھی، وہیں ملاقات ہوئی۔

انھوں نے اپنی کتابوں کے علاوہ، پینگوئن دہلی سے شائع ہونے والا شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول "کئی چاند تھے سر آسماں" بھی، مجھے دیا۔ انھوں نے اس سے متعلق رائے کا اظہار........

© Daily Urdu