Aarzu, Marg e Aarzu, Youtopia, Dystopia
آرزو، مرگِ آرزو، یوٹوپیا، ڈسٹوپیا
ادب تناقضات کو پیش کرتا ہے۔ زندگی کے واقعی تناقضات کو، جنھیں روزمرہ معمولات میں نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جارج برناڈ شا جب کہتے ہیں کہ زندگی کے دوالمیے ہیں۔ پہلا یہ کہ اپنی دلی آرزو کو ہاردینا، دوسرا یہ کہ اس آرزو کو پالینا، تو زندگی کے تناقض ہی کو پیش کرتے ہیں۔
نیز یہ کہتے ہیں کہ آرزو کے اندر، آرزو ہی کا ایک جہان موجود ہے۔ آرزو، کے تاریک وروشن رخ ہی نہیں، ان سے ماورا بھی بہت کچھ موجود ہوا کرتا ہے۔
آدمی کی دنیا کی کوئی چیز، سادہ ہے نہ اکہری۔ اس سچائی سے، ادب ہی آدمی کو آگاہ کرتا ہے۔
کیا یہ معمولی تناقض ہے کہ آرزو ہی میں، آرزو کی شکست موجود ہے؟ آرزو میں خود شکنی کا یہ سامان، ہستی کے عظیم تماشے ہی کا ایک جز ہے۔
شخصی آرزو کی ساری گرمی و گہما گہمی، اس وقت تک ہے، جب تک وہ اپنے ہدف تک نہیں پہنچتی۔ اپنے محبوب کو پانے کے بعدکا اگلا سفر، اسے کھونے کا ہے۔
علامہ اقبال نے وصل کو مرگِ آرزو کہا تھا:
عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کر ہے فراق وصل میں مرگِ آرزو، ہجر میں لذت طلب
لیکن ہجر یعنی آرزو کی شدت میں مبتلا رہنا، اس تناقض کا حل نہیں ہے جو ہستی میں موجود ہے اور جس کا سایہ مسلسل عام انسانی آرزوؤں پر پڑتا رہتا ہے۔
آرزو اگر وصل کی جانب سفر نہ کرے، یا یہ سفر لامتناہی ہوجائے تو تب بھی آرزو کو اپنی مرگ کا سامنا کرنے پڑے گا۔ آرزو کی آگ اگر وصل سے نہ بجھ سکے تو یہ آرزو ہی کو خاکستر کر دیا کرتی ہے۔
ایک اور صورت بھی ہوا کرتی ہے۔ آرزو کی آگ خود ہی بجھ جایا کرتی ہے اور آرزو کی دنیا میں ویرانی کے بھوت نوحے پڑھا کرتے ہیں۔ آرزو میں آخر کتنی آگ ہوسکتی ہے؟ یا آدمی میں کسی بھی شے کے لیے کتنی تاب وتواں ہوسکتی ہے؟ جون ایلیا کا شعر ہے:
ہے مرے شوق وصل کو یہ گلہ اس کا پہلو سرائے فانی ہے
بشیر بدر کا شعر بھی یاد آتا ہے:
شام آنکھوں میں، آنکھ پانی میں اور پانی سرائے فانی میں
شخصی آرزو کا یہی تناقض، سیاسی یوٹوپیا میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی یوٹوپیا، اجتماعی سماجی آرزو کا دوسرا نام ہے۔
جس طرح شخصی........
