menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Saudi Ya Hausi

43 0
19.09.2026

میرے لئے یہ بحث دس برس پرانی اور امام کعبہ کے ساتھ میری ایک ایسی تصویر کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جس میں امام کعبہ کے ہاتھوں میں میرے ہاتھ ہیں اور ہم دونوں باقاعدہ ہنس رہے ہیں۔ میں دوستوں کو اکثریہ تصویر دکھا کے فخریہ کہتا ہوں کہ شائد ہی کسی دوسرے پاکستانی کے ساتھ امام کعبہ جیسی بلند رتبہ شخصیت کی ایسی فرینک تصویر ہو۔ یہ تصویر اس وقت کی ہے جب حوثیوں اور سعودیوں کا نیا نیا تنازع شروع ہوا تھا۔

حوثیوں نے یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی عرب کی حمایت والی حکومت کے خلاف بڑی جنگ شروع کر دی تھی۔ یہ وقت سعودی عرب کے لئے بہت مشکل تھا اور اس نے اپنے دوست پاکستان سے مدد مانگی تھی مگر ہوا یوں کہ ان دنوں ہم پر جمہوریت کچھ زیادہ ہی چھائی ہوئی تھی۔ یہ عمران خان کے دھرنے والے دن تھے اور میڈیا پر ان کاموقف بہت زیادہ پذیرائی پاتا تھا۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ شاہ محمودقریشی نے بطور سابق وزیر خارجہ موقف اختیار کیا کہ مسلمانوں کی لڑائی میں ہمیں غیر جانبدار رہنا چاہئے۔

پی ٹی آئی کا یہ موقف اتنا ہی غلط تھا جتنا اس جماعت کا کسی بھی دوسرے معاملے میں ہوسکتا ہے۔ معاملہ جب ہائی لائٹ ہوا تو حکومت نے اس پر پارلیمنٹ میں بحث کروانے کا فیصلہ کیا جو میری نظر میں ایک اور غلطی تھی۔ پارلیمنٹ میں لفاظی کی بنیاد پر یہ فیصلہ کر وا لیا گیا کہ پاکستان اس جنگ میں غیر جانبدار رہے گا اور مجھے کہنے میں عار نہیں کہ پہلے وزیراعظم پاکستان اور پھر پورے پاکستان نے اس فیصلے کی قیمت چکائی۔

سعودی عرب ہمارے فیصلے سے ناراض ہوگیا تھا او ر شاہی خاندان نے اس پر حکومتی اور عوامی سطح پر سفارتکاری کے لئے مسجد الحرام یعنی خانہ کعبہ........

© Daily Urdu