menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bhutto, Aaghar Khan, Imran Khan

25 0
24.10.2026

بھٹو، اصغر خان، عمران خان

چھپن سال پہلے ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ایبٹ آباد میں ہونے والی وہ ملاقات آج پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا سچ ہے۔ جب ایوب خان نے بھٹو کو قید میں ڈالا تو اصغر خان ان کی رہائی کے لیے چٹان بن کر ڈٹ گئے جلوسوں کی قیادت کی۔ نتیجے میں جب بھٹو رہا ہو کر اصغر خان کے گھر ایبٹ آباد پہنچے اور پیپلز پارٹی کے قیام سمیت مل کر ایوب خان کو رخصت کرنے کا منصوبہ اصغر خان کے سامنے رکھا، تو اصغر خان نے سیدھا سوال کیا کہ آپ کا ایجنڈا کیا ہے۔

بھٹو نے ساتھیوں کی جانب مڑ کر قہقہہ لگایا اور بولے کہ اصغر خان کتنا سادہ آدمی ہے، ایجنڈا نہیں ڈنڈا، یہ قوم ڈنڈے کی عادی ہے اور ڈنڈا ہمارے ہاتھ میں ہوگا بیس سال ہمیں کوئی ہلا نہ پائے گا۔ اصغر خان نے اسی لمحے صاف کہہ دیا کہ اگر آپ کا ایجنڈا ڈنڈا ہے تو میرے اور آپ کے راستے آج سے الگ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھٹو نے اقتدار کے لیے ڈنڈے کا وہی راستہ چنا، جبکہ اصغر خان نے مرتے دم تک سچ، آئین اور اصول پسندی کا قول نبھایا۔

آج جب جاوید چوہدری جیسے کالم نگار عمران خان کا تقابل بھٹو سے کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ عمران خان بھی بھٹو کی طرح خوش فہمی اور خود سری میں اپنا نقصان کر بیٹھیں گے، تو سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ان دونوں کا کوئی موازنہ بنتا بھی ہے یا پھر یہ صرف ایک دلی خواہش یا فرمائشی تحریر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھٹو اور........

© Daily Urdu