menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Cigarette Noshi Aur Main

29 0
19.10.2026

قبل اس کے کہ کوئی بدگمان قاری "سگریٹ نوشی" کو دو لفظوں میں تقسیم کرکے نوشی بٹ کو اس داستان میں خواہ مخواہ شریک کر دے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا ہی میں وضاحت کر دی جائے کہ بیچاری کا اس تمام معاملے سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا اسٹرابیری فلیور والے سگریٹ کا اسٹرابیری سے تھا۔

مجھے ہمیشہ سے اس بات کا افسوس رہا ہے کہ قدرت نے مجھے کسی قابلِ ذکر برائی کے لیے موزوں نہیں بنایا۔ بعض لوگ بڑے اطمینان سے جھوٹ بول لیتے ہیں، بعض سگریٹ نوشی کرتے ہیں، بعض قرض لے کر بھول جاتے ہیں اور بعض خواتین تو ایسی بے فکر واقع ہوئی ہیں کہ رات کو میک آپ اتارے بغیر سو جاتی ہیں اور صبح اٹھ کر بھی ان کی جلد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک یہ ناچیز ہے کہ غلط کام کا ارادہ بھی کرے تو ضمیر اتنا شور مچاتا ہے کہ انسان گناہ بعد میں اور توبہ پہلے کر لیتا ہے۔

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب نئی نئی سرکاری ملازمت ملی تھی اور مجھے اپنی عقل کے متعلق وہ خوش فہمیاں لاحق تھیں جو عموماً نوجوانی اور تنخواہ کے پہلے چند مہینوں میں پیدا ہو جاتی ہیں۔

انہی دنوں ایک شاپنگ سینٹر جانا ہوا۔ وہاں اسٹرابیری فلیور کے لیڈیز سگریٹ رکھے تھے۔ اب تک سگریٹ نوشی کے متعلق جتنے قصے سنے تھے، ان سے یہی تاثر ملا تھا کہ یہ کوئی نہایت پراسرار اور نہایت سنجیدہ مشغلہ ہے، جس کا تعلق محض تمباکو سے نہیں بلکہ دانش، وقار اور تفکر سے بھی ہے۔ فلموں میں ہیرو کش لگا رہا ہے، شاعر دھواں چھوڑتے ہوئے محبت کے المیے پر غور فرما رہا ہے اور دانشور سگریٹ کے ساتھ قوم کی تقدیر کا فیصلہ کر رہا ہے۔

مجھے بھی یہ خوش فہمی لاحق ہوگئی کہ شاید اس دھویں اور سنجیدگی میں کوئی گہرا تعلق ہے۔ شاید ایک آدھ کش کے بعد طبیعت میں متانت پیدا ہو جائے، توجہ بڑھ جائے، فیصلوں میں پختگی آ جائے اور انسان کے........

© Daily Urdu