Rabte Barhe, Rishte Simat Gaye
رابطے بڑھے، رشتے سمٹ گئے
کبھی گھروں میں شام اترتی تھی تو صحنوں اور بیٹھکوں میں رونق جاگ اٹھتی تھی۔ کوئی دن بھر کی روداد سناتا، کوئی بزرگوں کے پاس بیٹھ کر ان کے تجربات سے فیض یاب ہوتا، بچے شور مچاتے اور پڑوسیوں کے ہاں آنا جانا زندگی کا معمول ہوتا تھا۔ خوشی ہوتی تو پورا محلہ شریک ہوتا اور غم آتا تو ایک دوسرے کے دروازوں پر دستک دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ لوگوں کے پاس شاید سہولتیں کم تھیں، لیکن ایک دوسرے کے لیے وقت، احساس اور اپنائیت نمایاں تھی۔
پھر ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹنے کا وعدہ کیا۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لا رکھا، دور بیٹھے لوگوں سے رابطہ آسان بنا دیا اور معلومات کے ایسے دروازے کھول دیے جن کا تصور چند دہائیاں پہلے مشکل تھا۔ مگر اس ترقی کے ساتھ ایک عجیب تضاد بھی سامنے آیا، ہم دنیا سے جڑتے گئے، لیکن کیا اپنے اردگرد موجود لوگوں سے ہمارا تعلق بھی اتنا ہی مضبوط ہوتا گیا؟
آج ایک ہی گھر میں بیٹھے افراد اپنی اپنی اسکرینوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ دسترخوان پر کھانا موجود ہے، اہلِ خانہ بھی ساتھ ہیں، مگر گفتگو کہیں کھو گئی ہے۔ والدین موبائل فون میں مصروف ہیں اور بچے ویڈیوز یا گیمز میں مگن۔ سب ایک چھت کے نیچے ہیں، لیکن ہر شخص اپنی الگ دنیا میں آباد ہے۔ جسمانی قربت باقی ہے، مگر ذہنی اور جذباتی فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
سوال محض موبائل فون کے استعمال کا نہیں، ہماری ترجیحات کا ہے۔ کیا ہم نے سہولت کو ضرورت، ضرورت کو عادت اور عادت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لیا ہے؟ کیا ہم نے یہ سوچنا چھوڑ........
