menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kashkol Par Jashan, Khudari Ka Matam

33 0
01.09.2026

کشکول پر جشن، خودداری کا ماتم

ریاستوں کی ترقی میں محنت، وسائل کے بہترین استعمال اور فکری خود مختاری کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ قومیں اپنے بازوؤں کی طاقت اور اندرونی معاشی استقلال کے بل بوتے پر دنیا میں سر اٹھا کر جیتی ہیں۔ لیکن تاریخ کے اس سفر میں کچھ معاشرے ایسے زوال کا شکار ہوتے ہیں جہاں زوال بھی تہوار بن جاتا ہے۔ آج ہم ایک ایسی بدقسمت قوم کی شکل اختیار کر چکے ہیں جنہیں دنیا بھر کے مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف (IMF) یا ورلڈ بینک سے اگر کوئی نیا قرض مل جاتا ہے تو ہم اس پر خوشی کے شادیانے بجانے لگتے ہیں۔ یہ رویہ کسی بھی زندہ معاشرے کی فکری اور اخلاقی موت کا سب سے بڑا ثبوت ہے، جہاں کشکول اٹھانے اور ادھار پر زندگی گزارنے کو قومی کامیابی سمجھ کر ڈھول پیٹے جاتے ہیں۔

اس شرمناک رجحان کا پس منظر ہماری دہائیوں پر محیط حکومتی بے تدبیری اور حقیقی معاشی اصلاحات سے گریز میں پیوست ہے۔ ماضی میں جب بھی کوئی حکومت برسرِ اقتدار آئی، اس نے ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے بجائے آسان راستے........

© Daily Urdu