Mini Pakistan Dakuon Ke Reham o Karam Par
منی پاکستان ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر
منی پاکستان کراچی اس وقت ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے۔ ڈاکو جب اور جہاں چاہتے ہیں، لوگوں کو یرغمال بنا کر ڈکیتی کر لیتے ہیں، جبکہ مزاحمت کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ شہر میں نہ کاروباری حضرات محفوظ ہیں اور نہ ہی رہائشی علاقوں کے مکین۔ آئے روز شہر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی، قتل و غارت اور لوٹ مار کے واقعات رونما ہوتے ہیں، لیکن جرائم پیشہ عناصر سرعام دندناتے پھرتے ہیں۔
شہریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو تک محفوظ نہیں رہی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان بڑھتے ہوئے واقعات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں، چار روز قبل کراچی کے علاقے منگھوپیر کے مہران سٹی میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا، جہاں مسلح ڈاکو پولیس کی وردی میں ملبوس ہو کر ایک گھر میں داخل ہوئے۔ ملزمان نے گھر کے تالے اور گرل توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد مکینوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 16 سالہ حافظ قرآن روشم، جو آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور رواں سال میٹرک میں ٹاپ پوزیشن ہولڈر بھی رہا تھا، سینے پر گولی لگنے کے باعث موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
ایک ہنستا بستا گھرانے کا چشم و چراغ، آٹھ بہنوں کا اکلوتا سہارا، حافظ قرآن اور تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والا یہ ہونہار طالب علم ڈاکوؤں کی سفاکیت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایک ایسے گھرانے کا اکلوتا بیٹا، جس کے مستقبل سے والدین اور آٹھ بہنوں کی امیدیں وابستہ تھیں، آج اس دنیا میں نہیں رہا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے اور اہل خانہ کے غم کی شدت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
شہید کے والد روئیدار خان کے مطابق، مسلح افراد پولیس کی وردی میں ملبوس ہو کر گھر میں داخل ہوئے، تالے اور گرل توڑے اور مکینوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ان کا 16 سالہ بیٹا سینے پر گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد مسلح افراد فرار ہو گئے۔ ایک معصوم حافظ قرآن اور ہونہار طالب علم کا اس طرح بے رحمی سے قتل کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ واقعے کے بعد شہید کے ورثاء نے علاقہ........
