Afghan Sifarat Khane Ki Taqreeb, Molana Ki Fikr Angez Tajaveez
افغان سفارت خانے کی تقریب، مولانا کی فکر انگیز تجاویز
گزشتہ روز مو ان پک ہوٹل اسلام آباد میں افغانستان کےطالبان کی موجودہ حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر افغان سفارت خانے نے ایک خصوصی تقریب منعقد کی بظاہر یہ ایک سفارتی تقریب تھی مگر اس پُروقار تقریب کا سب سے دلکش منظر یہ تھا کہ اس میں پاکستان کی مقتدر سیاسی قوتوں کے مرکزی کردار ایک ہی چھت کے نیچے جمع تھے۔ تقریب میں جہاں ایک طرف جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن موجود تھے، وہیں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور جماعت اسلامی کے سراج الحق جیسی قدآور سیاسی شخصیات بھی شریک تھیں۔ اس کے علاوہ مختلف سیاسی، سماجی اور کاروباری حلقوں کے نامور چہرے اور دنیا بھر کے ممالک کے سفراء نے اس محفل کو رونق بخشی۔ تقریب میں اگرچہ کئی اہم نام موجود تھے، لیکن اس تقریب کا اصل محور اور روحِ رواں مولانا فضل الرحمن کی ذات بنی۔
سفارتی آداب کے مطابق تقریب کا آغاز افغان سفیر سردار شکیب احمد کے کلماتِ افتتاحیہ سے ہوا، جنہوں نے مختصر اور نپی تلی گفتگو میں افغان پالیسی کے بنیادی خدوخال پر روشنی ڈالی۔ لیکن اس کے بعد جو ہوا، اس نے تمام مبصرین کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔........
