menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aaina Unko Dikhaya To Bura Maan Gaye

13 3
07.02.2026

گزشتہ روز پشاور کے نشتر ہال میں منعقد ہونے والا ینگ لیڈر کنونشن بظاہر ایک معمول کی سیاسی تقریب معلوم ہوتا تھا، لیکن اس کے دامن سے اٹھنے والے سوالات پورے صوبے کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے تھے اس تقریب میں صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شرکت کی اور حسب روایت اپنے مخصوص انداز میں پرجوش اور جذباتی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ باقی صوبوں میں جعلی حکومتیں قائم ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک "اصلی حکومت" برسرِ اقتدار ہے۔ یہ وہ الفاظ تھے جو شاید تالیاں بجانے اور محفل کو گرم کرنے کے لیے تو کافی تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں سے نکلنے والے الفاظ عوام کے دلوں میں بھی گونج پیدا کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ زخم پر نمک کی طرح اثر بھی کرتے ہیں۔

اس موقع پر اسلامیہ کالج پشاور کی ایک نوجوان، پُرعزم اور باہمت طالبہ، فاطمہ خان، نے نہ صرف ہمت دکھائی بلکہ وہ سوال پوچھا جو برسوں سے ہر محبِ وطن کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ اس نے وزیراعلی کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر یہ "اصلی حکومت" ہے تو پھر یہ صوبہ ترقی کیوں نہیں کر سکا کیوں یہاں روزگار کم، تعلیم کمزور اور ادارے پسماندہ ہیں، جبکہ وہ صوبے جنہیں آپ جعلی حکومتیں کہتے ہیں، ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں جس پر وزیراعلی نے طالبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاید آپ کا تعلق یا تو اے این پی سے ہے یا جمعیت سے اور مزید فرمایا کہ ترقی آپ کسے کہتی ہے مجھے بھی سمجھائیے۔ بجائے اس........

© Daily Urdu