menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

1000 Rupay Petrol Elan Aur Bebas Awam

22 0
22.09.2026

ایک ہزار روپے پٹرول اعلان اور بےبس عوام

پاکستانی قوم پہلے ہی مہنگائی کے ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جہاں ہر نیا دن اپنے ساتھ ایک نئی پریشانی، ایک نئی قیمت اور ایک نیا بوجھ لے کر طلوع ہوتا ہے۔ بجلی کے بل ہوں، گیس کے نرخ ہوں، اشیائے خورونوش کی قیمتیں ہوں یا روزمرہ استعمال کی دوسری ضروریات، عام آدمی کی زندگی مسلسل مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیر پیٹرولیم پرویز ملک کی جانب سے یہ کہنا کہ اگر ملک میں پٹرول کی قلت پیدا ہوئی تو اس کی قیمت ایک ہزار روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے، پوری قوم کے لیے کسی آسمانی بجلی سے کم نہیں۔ یہ اعلان ایک ممکنہ قیمت کا ذکر نہیں بلکہ اس شخص کے لیے ایک خوفناک منظر ہے جو پہلے ہی اپنی محدود آمدنی میں گھر کا چولہا جلانے، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔

ایران امریکہ جنگ شروع ہونےسےقبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً ستر سے پچہتر ڈالر فی بیرل کے آس پاس تھیں اور پاکستان میں پٹرول کی قیمت بھی تقریباً ڈھائی سو روپے فی لیٹر کے قریب تھی۔ اب عالمی حالات، بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے باعث، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سو ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں اور موجودہ سطح تقریباً ایک سو تین ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔

عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کا اثر پاکستان پر پڑنا ایک حقیقت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عالمی قیمت میں اضافے کا سارا بوجھ پاکستانی عوام ہی کے کندھوں پر ڈال دینا بھی ناگزیر ہے یہاں اصل سوال صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کا نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے عائد مختلف ٹیکسوں اور لیوی کا بھی ہے۔ جب پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں بھاری رقم پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کی جا رہی ہو تو........

© Daily Urdu