Jhoot, Hafza Aur Kamyabi Ki Kahani
جھوٹ، حافظہ اور کامیابی کا راز
مولوی ذکاء اللہ صاحب نے اپنی معروف کتاب "محاسنِ اخلاق" میں جھوٹ کے موضوع پر فارسی کی ایک مشہور ضرب المثل نقل کی ہے: "دروغ گو را حافظہ نباشد" یعنی "جھوٹ بولنے والے کا حافظہ نہیں ہوتا"۔ بظاہر اس کہاوت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جھوٹا شخص بھولنے والا ہوتا ہے، لیکن اگر اس پر ذرا گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عقل اس کی ایک اور توجیہ بھی پیش کرتی ہے۔ اگر کسی شخص کا حافظہ کمزور ہو تو وہ جھوٹ کا کاروبار زیادہ دیر تک نہیں چلا سکتا، کیونکہ جھوٹ کو برقرار رکھنے کے لیے ہر لمحہ نئی باتیں گھڑنا اور پرانی باتوں کو یاد رکھنا پڑتا ہے۔ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور بالآخر انسان خود اپنے ہی جال میں پھنس جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ اور حافظے کا آپس میں نہایت گہرا تعلق ہے۔ سچ بولنے والا کسی ذہنی بوجھ کا شکار نہیں ہوتا، کیونکہ اسے کچھ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ ہر موقع پر وہی بات دہراتا ہے جو حقیقت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جھوٹا شخص ہر وقت اس فکر میں مبتلا رہتا ہے کہ اس نے کس سے کیا کہا تھا۔ یہی ذہنی کشمکش اس کے حافظے کو متاثر کرتی ہے، اس کی شخصیت کو کمزور بناتی ہے اور اس کی ساکھ کو مجروح کر دیتی ہے۔
ریڈیو پر میرے ایک بزرگ سامع ہیں جن کی عمر اس وقت تقریباً اسی برس ہے۔ وہ اکثر ایک نہایت تلخ مگر حقیقت پر مبنی بات کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں لوگ نمازِ فجر کے علاوہ باقی معاملات میں اکثر جھوٹ سے کام لیتے ہیں۔ ان کا مقصد کسی پر الزام لگانا نہیں بلکہ اس اخلاقی زوال کی........
