menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lahore Awargi

20 0
27.07.2026

ان دنوں مستنصر حسین تارڑ صاحب کی "لاہور آوارگی" پڑھ رہا ہوں۔ جب سے جہلم بک کارنر کی ویب سائٹ پہ یہ کتاب دیکھی تھی تب سے ہی اسے پڑھنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن میری عادت ہے جو کتابیں پہلے منگوا چکا ہوں انہیں پڑھ لوں تو مزید منگواتا ہوں۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ کتابیں آپ کے مزاج کی نہیں ہوتی چاہے وہ جتنا بھی مشہور ہوں، اس لیے ایک دو کتابوں کو درمیان میں ہی ترک کیا اور "لاہور آوارگی" شروع کر دی۔ اس میں لاہور کے حوالے سے مستنصر صاحب کے جذبات اور ان کی لاہور سے محبت کو انہوں نے قلم کیا ہے۔ کسی کو بھی اس کتاب کے پسند آنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، ایک مستنصر صاحب اور دوسرا لاہور۔ مجھے یہ دونوں ہی پسند ہیں۔ میرے پسندیدہ شہر کی رونقوں، اس کے مقامات اس کی سڑکوں، اس کے مزاج، اس کے لوگوں، اس کی تاریخ، اس کے کھانوں، تہواروں اور اس کی شکایتوں کا تذکرہ ہو اور لاہور سے محبت رکھنے والوں کو یہ پسند نا آئے یہ ہو نہیں سکتا۔

میری لاہور سے کوئی نسبت نہیں لیکن اس سے منسوب ہونے کو دل کرتا ہے اس کا ذکر اچھا لگتا ہے، ایسے جیسے ایک بچھڑے محبوب کا ذکر دل و دماغ کو فرحت بخشتا ہو۔ میں تو باسی بھی لاہور سے تین چار سو کلو میٹر دور شہر کا ہوں، تو لاہور کا نام خود سے جوڑنے کے لیے اپنے چند دوستوں کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کے بعد لاہور جا ٹھہرا........

© Daily Urdu