menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dakuon Ke Mukhtalif Roop

23 0
25.06.2026

ڈاکوؤں کا کام ہے خوف حراس پھیلا کر لوگوں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لینا ہے۔ کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کے بارے میں ہم آئے روز سنتے لکھتے آتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی ڈاکوؤں کی بیشمار قسمیں ہیں۔ جن میں کالی وردی والے، کالےکوٹ، سفید کوٹ والے شیروانی اور شلوار قمیض والے، سب سے پہلے تو میں ان معزز باعزت باوقار شعبوں سے وابستہ افراد سے انتہائی معذرت خواہ ہوں یہاں پر ان مقدس شعبوں سے منسلک بعض کالی بھیڑوں کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ جنھوں نے ان مقدس شعبوں کا تقدس پامال کیا ہوا ہے۔

گزارش یہی ہے بس پہلے سے پریشان لوگوں کو مزید پریشان مت کریں۔ کیونکہ آج کا انسان مادی اور نفسیاتی لحاظ سے تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، بیماری اور غیر یقینی مستقبل نے عام آدمی کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی اندرونی جنگ میں مصروف ہے۔ ایسے میں جہاں معاشرے کو مرہم، ہمدردی اور دلاسے کی ضرورت تھی، وہاں پر ہم چند پیسوں کی خاطر ہم ان پریشان حال کو اتنا پریشان اور خوف زدہ کرتے ہیں۔ کہ بعض اوقات وہ نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ یہاں تک وہ اپنی زندگی سے بیزار ہو آ کر انتہائی خطرناک عمل کر بیٹھتے ہیں۔

آج کل ہمیں ہر وقت ہر لمحہ ٹیلی ویژن ہو یا سوشل میڈیا پر ایسے ایسے اشتہارات دیکھائے جاتے ہیں۔ جن کو دیکھ کر لوگ خوش ہونے کے بجائے پریشانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خوف زدہ ہوکر زندگی سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ کاروباری دنیا میں مقابلے کی مسابقت کاروبار کرنا اور منافع کمانا ہر تاجر کا حق ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا منافع انسانی جذبات اور خوف کی قیمت پر ہونا چاہیے؟ ہاں اشیاء کامعیار بہتر سے بہتر بنا کر ان کی خوبیاں فائدے افادیت بیان کرکے........

© Daily Urdu