menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qarzon Ka Asal Mujrim Kon?

26 0
10.06.2026

قرضوں کا اصل مجرم کون؟

کبھی کبھی ایک قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں ہوتی کہ اس کے پاس وسائل کم ہوں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے وسائل پر چند بے ضمیر لوگوں کا قبضہ ہو جائے۔ پاکستان بھی ایک ایسی ہی کہانی کا کردار بن چکا ہے۔ ہمارے پاس دریا ہیں، ڈیم ہیں، بجلی گھر ہیں، ہزاروں کلومیٹر لمبا ترسیلی نظام ہے اور لاکھوں صارفین ہیں، لیکن اس کے باوجود ہر سال اربوں روپے کا نقصان صرف اس لیے برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ بجلی صرف پیدا نہیں ہوتی، راستے میں چوری بھی ہو جاتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک نے جب اپنے بجلی کے اداروں کو خسارے، بدانتظامی اور سیاسی مداخلت سے نکالنے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے نجکاری یا بڑے پیمانے پر اصلاحات کا راستہ اختیار کیا۔ برطانیہ نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں بجلی کے شعبے کی نجکاری کی، جرمنی نے نجی سرمایہ کاری اور مسابقت کو فروغ دیا، آسٹریلیا کی مختلف ریاستوں نے تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کو شامل کیا اور چلی نے بجلی کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کو بڑھایا۔ ان تمام تجربات میں ایک بات مشترک تھی کہ حکومت نے صرف ادارے نہیں بیچے بلکہ نگرانی، احتساب اور جدید نظام بھی متعارف کروایا۔ جہاں یہ عناصر مضبوط رہے وہاں بجلی کے نقصانات کم ہوئے، وصولیاں بہتر ہوئیں اور صارفین کو نسبتاً بہتر خدمات ملیں۔

پاکستان میں بھی حکومت تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی بات کر رہی ہے۔ اس فیصلے پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ اگر کوئی ادارہ سالہا سال خسارے میں رہے، بجلی چوری پر قابو نہ پا سکے اور اس کا بوجھ آخرکار ایماندار صارفین اور قومی خزانے پر پڑے تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے؟

واپڈا اور بجلی کے شعبے میں ہزاروں ایماندار افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرتے ہیں، لیکن عوام کی شکایات یہ بھی ہیں کہ........

© Daily Urdu