menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pia, Qaumi Waqar Se Qaumi Nuqsan Tak

24 1
28.12.2025

ایک قدیم اور مضبوط کارخانہ تھا جسے محنت، اصول اور دیانت سے بنایا گیا تھا۔ وارث آئے تو مشینیں بیچیں، مزدور بدل دیے اور حساب کتاب کو سیاست کا آلہ بنا دیا۔ کارخانہ چلتا رہا مگر کھوکھلا ہوتا گیا۔ آخرکار اعلان ہوا یہ ادارہ ریاست کے لیے بوجھ ہے، اسے بیچ دیا جائے۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ بوجھ کس نے بنایا، سب نے صرف قیمت پوچھی۔

پاکستان نے آج صرف ایک ایئرلائن نہیں بیچی، اس نے اپنی ایک تاریخ، ایک شناخت اور اپنی اجتماعی نااہلی کا ثبوت بیچ دیا ہے۔ پی آئی اے کی فروخت کوئی معاشی فیصلہ نہیں، یہ ایک اعترافِ جرم ہے، یہ مان لینے کا اعلان کہ ریاست ایک عظیم ادارے کو چلانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔

پی آئی اے کی بنیاد اس دن پڑی جب پاکستان ابھی نقشے پر بھی پورا واضح نہیں تھا۔ 1946ء میں برصغیر کے ممتاز صنعتکار مرزا احمد اصفہانی نے اورینٹ ایئرویز کے نام سے ایک فضائی کمپنی قائم کی۔ اصفہانی خاندان اس دور میں تجارت اور صنعت میں ایک مضبوط شناخت رکھتا تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد جب لاکھوں لوگ ہجرت کر رہے تھے، ریاستی ڈھانچہ موجود نہیں تھا، تب یہی اورینٹ ایئرویز پاکستان کے لیے فضائی ریڑھ کی ہڈی بنی۔ کراچی سے ڈھاکہ تک رابطہ اسی کمپنی نے برقرار رکھا، بغیر شور، بغیر دعوے۔

1955ء میں وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے اس ادارے کو قومی تحویل میں........

© Daily Urdu