Jahaz, Jurabein Aur Riyasat
جہاز، جرابیں اور ریاست
ایک ملک کی اصل حالت جاننے کے لیے اس کا بجٹ دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، کبھی کبھی صرف اس کے حکمران کا سفر دیکھ لینا کافی ہوتا ہے۔ آپ کو پتا چل جاتا ہے کہ ریاست کہاں کھڑی ہے، حکمران خود کو کہاں کھڑا سمجھتا ہے اور عوام کو کہاں کھڑا کیا گیا ہے۔
چند دن پہلے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئیں۔ یہ ایک ماں کے لیے یقیناً خوشی کا موقع تھا، بیٹی کی کامیابی پر ہر ماں باپ خوش ہوتا ہے، لیکن اس ذاتی خوشی کے ساتھ ایک سرکاری سوال بھی پیدا ہوگیا، اس سفر کے لیے پنجاب حکومت کا طیارہ کیوں استعمال ہوا؟ اور اس کا خرچ کتنا آیا؟
حکومت کی طرف سے وضاحت آئی کہ وزیراعلیٰ نے سفر کے تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اس کے بعد اخراجات کا حساب سامنے آنے کی خبریں بھی آئیں اور بعض رپورٹس میں رقم تقریباً دو کروڑ 93 لاکھ 65 ہزار 976 روپے بتائی گئی، تاہم اس مخصوص رقم کی سرکاری دستاویز سے تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ اصل بات بہرحال یہی ہے کہ سفر سرکاری طیارے پر ہوا اور حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کی ادائیگی ذاتی طور پر کی گئی۔
اب یہاں ایک بہت سادہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے کمرشل فلائٹ سے لندن چلی جاتیں تو ان کی شان میں کیا کمی آ جاتی؟ وہی لندن، وہی تقریب، وہی بیٹی، وہی ماں، وہی گریجویشن اور وہی خوشی۔ فرق صرف اتنا ہوتا کہ ریاست اور ذاتی زندگی کے درمیان ایک لکیر صاف دکھائی دیتی۔
یہ سوال مریم نواز کی ذات سے زیادہ اس سیاسی کلچر کا سوال ہے جس میں سرکاری عہدہ ملتے ہی ریاستی سہولتیں ذاتی سہولتوں کے ساتھ ملنے لگتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف اپنی جگہ قابلِ ذکر ہے کہ اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے گئے، لیکن عوامی بحث کا دوسرا پہلو بھی اپنی جگہ موجود ہے، کیا ہر وہ سہولت جو حکمران اپنی جیب سے ادا کر سکتا ہے، اسے استعمال کرنا اخلاقاً اور انتظامی طور پر بھی مناسب ہو جاتا ہے؟
دنیا میں ریاستی منصب کی عزت صرف بڑے جہاز، بڑی گاڑی، بڑے پروٹوکول اور بڑے قافلے سے نہیں بنتی، بعض اوقات عزت اس وقت بڑھتی ہے جب حکمران جان بوجھ کر سہولت چھوڑ دیتا ہے۔
قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی میں اس کی کئی........
