menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Lepanto Ke Maqtal Se Ubharne Wala Uqab

23 0
05.08.2026

لپانٹو کے مقتل سے ابھرنے والا عقاب

باہر استنبول کے افق پر صبح کی پہلی کرن نمودار ہو رہی ہے اور باسفورس کی لہریں قصرِ خلافت کی دیواروں سے ٹکرا کر ایک مدہم سا شور پیدا کر رہی ہیں۔ میں اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوں اور سامنے میز پر وہ بیش قیمت ریشمی خلعت اور جواہرات سے جڑی تلوار پڑی ہے جو مجھے خود سلطانِ وقت نے عطا کی تھی۔ میرے ہاتھوں کے سخت، اکھڑے ہوئے نشانات اور ہڈیوں کا ٹیڑھا پن آج بھی ان بھاری زنجیروں اور تپتے ہوئے لوہے کی یاد دلاتا ہے جنہیں میں نے اپنی جوانی میں برسوں پہنا تھا۔

لوگ مجھے کپودان پاشا کہتے ہیں، عثمانی سلطنت کا گرینڈ ایڈمرل، بحیرہ روم کا رکھوالا اور وہ سالار جس نے تاریخ کے بدترین بحری ملبے سے ایک نیا اور ناقابلِ شکست عثمانی بحری بیڑا کھڑا کر دیا۔ لیکن اس وقت، جب میری عمر ستر برس کے قریب پہنچ چکی ہے اور زندگی کا یہ بحری سفر اپنے آخری ساحل کی طرف گامزن ہے، میرا ذہن استنبول کے اس شاہی جاہ و جلال سے دور، اٹلی کے ان تپتے ہوئے ساحلوں اور غلاموں کے ان تاریک جہازوں کی طرف جا رہا ہے جہاں سے ایک قیدی کی داستان شروع ہوئی تھی۔

میری کہانی کا آغاز بحیرہ روم کے دوسرے پار، اٹلی کے جنوبی خطے کلابریا (Calabria) کے ایک چھوٹے سے ساحلی گاؤں میں ہوا تھا۔ میرا نام جیوانی دیونیگی گالینی (Giovanni Dionigi Galeni) تھا۔ میرے والد ایک غریب ملاح تھے جو سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر ہمارا پیٹ پالتے تھے۔ بچپن ہی سے سمندر کی نیلگوں وسعتیں میری دنیا تھیں، لیکن میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سمندر میری پوری زندگی کا رخ اس طرح بدل دے گا۔ میری عمر ابھی مشکل سے سترہ سال تھی جب افریقہ کے مسلم بحری مجاہدین نے ہمارے ساحلی گاؤں پر اچانک حملہ کر دیا۔ وہ چند گھنٹوں کا ہنگامہ تھا، ہر طرف چیخ و پکار تھی، مکانات جل رہے تھے اور میں اپنے خاندان سے بچھڑ کر ایک جنگی جہاز کے اندھیرے تہہ خانے میں زنجیروں سے جکڑا جا چکا تھا۔

مجھے ایک عیسائی قیدی کے طور پر بحری جہاز کے نچلے حصے میں پہنچا دیا گیا، جہاں غلاموں کو دن رات بھاری لکڑی کے چپو (Oars) چلانے پڑتے تھے۔ وہ زندگی کسی جہنم سے کم نہیں تھی۔ کوڑے کی ہر ضرب پیٹھ پر پڑتی، پاؤں زنجیروں سے زخمی ہوتے اور جھلساتی ہوئی گرمی میں سمندر کا نمکین پانی ہمارے زخموں پر لگتا۔ میں نے کئی سال اسی تاریکی میں گزارے۔ میرے ساتھ کے بہت سے عیسائی ملاح اس سختی کو نہ جھیل سکے اور مر کر سمندر کی نذر ہو گئے، لیکن میرے اندر زندہ رہنے کی ایک عجیب تڑپ تھی۔ میں نے ان سالوں میں صرف چپو نہیں چلائے، بلکہ میں نے خاموشی سے سمندری لہروں کے مزاج، ہواؤں کے رخ اور بحری جہازوں کی ساخت کا گہرا مطالعہ کیا۔ میں ملاحوں کی گفتگو سنتا اور نقشوں کے بغیر ہی بحیرہ روم کے چپے چپے کو اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتا۔

ایک دن، جہاز کے مسلم کپتان نے میری غیر معمولی ذہانت، تیز نظری اور جہاز رانی کی قدرتی مہارت کو بھانپ لیا۔ اس نے مجھ سے کہا: "نوجوان! تم غلامی کی زنجیروں میں سڑنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے ہو۔ تمہاری آنکھوں میں سمندر کی بادشاہت لکھی ہے"۔ اللہ نے میرے دل کا پردہ چاک کیا، میں نے اسلام کی سچائی کو قبول کیا،........

© Daily Urdu