Bosnia Ka Shahi Ataleeq
بوسنیا کا شاہی اتالیق
باہر استنبول کے آسمان پر شام کے گہرے بادل چھا رہے ہیں اور باسفورس کا پانی توپوں کے دھماکوں کی طرح قصرِ خلافت کے پتھروں سے ٹکرا رہا ہے۔ میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں اور میری ضعیف آنکھیں دیوار پر لٹکی اس پرانی، زنگ آلود عثمانی تلوار پر جمی ہیں جس پر بحیرہ روم کی نمکین ہوا اور خاک کے نشان اب بھی ثبت ہیں۔ میری عمر اس وقت اسی سال کے قریب پہنچ چکی ہے اور یہ تپتا ہوا جسم گواہی دے رہا ہے کہ اب اس زندگی کا لنگر اٹھنے والا ہے۔
لوگ مجھے ایک سخت گیر جرنیل کہتے ہیں، وہ شخص جس نے وینس (Venice) کے غرور کو مٹی میں ملا دیا اور کچھ عرصے کے لیے سلطنتِ عثمانیہ کے سب سے اعلیٰ عہدے، یعنی "وزیراعظم" (Grand Vizier) پر بھی فائز رہا۔ لیکن اس وقت، جب موت کا فرشتہ میرے سرہانے کھڑا مسکرا رہا ہے، میرا ذہن استنبول کی اس شاہی جاہ و جلال سے دور، بحیرہ روم کے اس تزویراتی جزیرے اور فاماگوستا (Famagusta) کی ان خونی فصیلوں کی طرف جا رہا ہے جہاں ہم نے ایک سال تک تاریخ کا سب سے کٹھن اور ہولناک محاصرہ لڑا تھا۔
میری کہانی کا آغاز سلطنتِ کے ایک دور دراز خطے، بوسنیا (Bosnia) کے ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں میں ہوا تھا۔ میں کوئی پیدائشی ترک یا شاہی خاندان کا چشم و چراغ نہیں تھا۔ میں نسلاً ایک بوسنیائی تھا، جسے عثمانیوں کے "دوشیرمہ" (Devshirme) نظام کے تحت بچپن میں استنبول لایا گیا تھا۔ ٹوپکاپی محل (Topkapi Palace) کے سخت عسکری اور علمی نظم و ضبط نے میری زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔ میں نے وہاں صرف تلوار چلانا نہیں سیکھا، بلکہ سیاست، تاریخ، فلسفہ اور سلطنت چلانے کے اسلوب بھی سیکھے۔
میری ذہانت اور سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے، مجھے سلطنت کے شاہی شہزادوں (Princes)، خاص طور پر سلطان سلیمان عالیشان کے بیٹوں کا اتالیق اور استاد مقرر کیا گیا۔ عثمانی ثقافت میں شہزادوں کے استاد کو بہت احترام سے "لالا" کہا جاتا ہے۔ میں نے شہزادوں کو سیاست کے داؤ پیچ اور میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی سکھائی۔ وہ ایک ایسا دور تھا جب میں قلم اور کتاب کا دھنی تھا، لیکن تقدیر نے میرے لیے ایک ایسا میدان چن رکھا تھا جہاں قلم کی سیاہی........
