menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khaleeji Kasheedgi: Jang Ke Badal

22 0
22.04.2026

خلیجی کشیدگی: جنگ کے بادل

خلیج کی فضا میں اس وقت ایک ایسی بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت سرایت کر چکی ہے جو محض سفارتی کشیدگی نہیں بلکہ ایک ممکنہ طوفان کا پیش خیمہ محسوس ہوتی ہے۔ تہران سے منسوب ایک سخت گیر اور غیر معمولی انتباہ نے خطے کے سیاسی و عسکری منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں سید محمد مرندی کی جانب سے خلیجی ریاستوں کو فوری طور پر خالی کرنے اور بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس بیان نے نہ صرف عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی بلکہ پالیسی ساز حلقوں میں بھی شدید تشویش کو جنم دیا ہے، کیونکہ اس نوعیت کی زبان عموماً اس وقت اختیار کی جاتی ہے جب پس پردہ حالات معمول سے کہیں زیادہ سنگین ہو چکے ہوں۔

خلیجی خطہ طویل عرصے سے عالمی توانائی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز اس کی سب سے حساس گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس آبی راستے کو واقعی کسی عسکری کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتباہ کو محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک ممکنہ جیو اسٹریٹیجک تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

حالیہ بیانات کو........

© Daily Urdu