Ikhtiyar Awami Ke Qareeb Laayen
اختیار عوام کے قریب لائیں
کیا عجب خاک نشینوں کو خبر ہو کہ کہاں
خاک ڈھونڈھے تو تری یاد گہر بار نہ ہو
یہ وہ ارضِ پاک ہے جس کی ہر دھرتی کو قرآن کا وہ ابدی وعدہ ملا ہے کہ "وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسُتُضُعِفُوا فِي الُأَرُضِ وَنَجُعَلَهُمُ أَئِمَّةً وَنَجُعَلَهُمُ الُوَارِثِينَ" (القصص: 5) مگر افسوس کہ آج اس سرزمین کے چاروں کنارے اس طرح خودمختار ہو گئے ہیں کہ وفاق کا تخت خالی پڑا ہے اور ہر صوبے کا امیر اپنی سلطنت کا بادشاہ بن بیٹھا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کی شب، جو جمہوریت کے نام پر آئی، اس نے وفاق کو اتنا نزار کر دیا کہ جب وہ محصولات کا خزانہ جمع کرتا ہے تو اس کا بیشتر حصہ نیشنل فنانس کمیشن کے راستے صوبوں کو پہنچ جاتا ہے اور مرکز ایسے کنگال رہ جاتا ہے جیسے کوئی تاجر جس کا سرمایہ سب شراکت داروں میں تقسیم ہوگیا ہو۔
قابل تقسیم محصولات کا یہ کلیہ، جو چاروں صوبوں میں اس طرح بٹتا ہے جیسے وراثت کا کوئی پرانا نظام ہو، دراصل ان صوبوں کو قارون کی سی دولت سے نوازتا ہے مگر انہیں ایک درہم بھی اوپر یا نیچے منتقل کرنے........
