Dehshatgardi Aur Pakistan: Aik Taveel Almiye Ka Ehtesab
دہشت گردی اور پاکستان: ایک طویل المیے کا احتساب
ہر قوم کی تقدیر اس کے ادراک اور فیصلوں کا مرہون منت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے حال اور مستقبل کے تقاضوں سے چشم پوشی کرتی ہیں، تو زمانہ انہیں ایسے امتحانات میں مبتلا کر دیتا ہے جن کا ادراک دیر سے ہوتا ہے اور اس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ دہشت گردی کا یہ طوفان ایک دم نہیں اٹھا بلکہ اس کی ابتدا ان بیجوں سے ہوئی جو ہم نے اپنے ہاتھوں بوئے، پھر اسے پانی دیا اور جب وہ درخت بن گیا تو اس کے سایہ میں ہم خود بے سایہ ہو گئے۔
قرآن مجید نے فرمایا: "وَلَا تَلُقُوا بِأَيُدِيكُمُ إِلَى التَّهُلُكَةِ" (البقرہ: 195) یعنی اپنے ہاتھوں اپنی تباہی میں نہ پڑو۔ مگر تاریخ کے اس باب میں ہم نے خود کو تباہی کے گھاٹ اتارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ زمانہ جب ہم نے سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں عالمی طاقتوں کا ساتھ دیا، اس وقت ایک ظاہری فتح تو حاصل ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی ہم نے ایک ایسا ہتھیار اپنے معاشرے میں منتقل کر دیا جو آج ہماری ہی بقا کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ کلاشنکوف اور اوزی کا وہ ہتھیار جو کبھی مجاہدین کی طاقت تھا، آج وہی ہمارے اپنے گلی کوچوں میں دہشت پھیلانے کا ذریعہ ہے۔
افغان جہاد کے بعد جب امریکہ نے یکایک اس خطے سے اپنی توجہ ہٹائی، تو ہزاروں تربیت یافتہ جنگجو بے کار ہو گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کی رگوں میں جہاد کا خون دوڑتا تھا، مگر انہیں کوئی راہ نہ ملی۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے نئی تنظیموں نے جنم لیا اور پھر وہی عمل دہرایا گیا جو پہلے بھی ہو چکا........
