Zindagi Aik Bazgasht
میں نے آگے بڑھ کر دستک دی اور جھونپڑی میں داخل ہوگیا۔ میں نے اس جھونپڑی تک پہنچنے کے لیے پندرہ سو کلو میٹر کا سفر طے کیا تھا اور اس طویل سفر کے دوران میں نے کئی بار واپس جانے کا سوچا لیکن بابا جی سے ملنا میری پرانی حسرت تھی اورآج یہ حسرت مجھے پہاڑوں میں گھری اس جھونپڑی میں لے آئی تھی۔ سفر جتنا دشوار تھا اس سے کہیں ذیادہ خوفنا ک بھی۔
ڈر اور خوف کی اپنی نفسیات ہوتی ہیں اور انسان چاہتے ہوئے بھی ان نفسیات سے جان نہیں چھڑا سکتا اور میرے ساتھ بھی اس رات یہی ہوا تھا، ہر طرف اندھیرا تھا، خاموشی تھی، خوفناک آوازیں تھیں اورمیں ان خوفناک آوازوں کے بیچ اکیلا کھڑا سردی اور خوف سے کپکپا رہا تھا۔ خوف اور وہم دو جڑواں بھائی ہیں اورمیں اس وقت خوف کے ساتھ ساتھ وہم کا بھی شکار ہوگیا تھا۔ میں سانس لیتا تھا تو مجھے اپنی سانس کی آواز کسی خوفناک چڑیل کی چیخ سنائی دیتی تھی، میں ہاتھ ہلا تا تھا تو مجھے سامنے جنگل میں بھوت رقص کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، میں دائیں بائیں دیکھتا تھاتو مختلف شکلیں مجھے اپنی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں، میں پاؤں کی طرف دیکھتا تھا تو محسوس ہوتا تھا ابھی کو ئی دس پندرہ فٹ لمبا سانپ یہاں سے نکلے گا اور میرے ٹانگوں کے ساتھ چمٹ جائے گا، میں اوپر خلا میں دیکھتا تھا تو مجھے ہوا میں مختلف قسم کے چہرے ہنستے ہو ئے دکھا ئی دیتے تھے، میں سامنے جنگل کی طرف دیکھتا تھا تو دور چڑیلیں مجھے اپنی طرف بڑھتی ہو ئی محسوس ہوتی تھیں، میں درختوں کی طرف دیکھتا تھا تو مجھے درختوں کے پتوں سے بھی خوف آنے لگتا تھا، یہ سب کیا تھا؟ یہ وہ وہم تھا جو خوف کے ساتھ خودبخود چلا آتا ہے۔
ہم جب خوف کا شکار ہوتے ہیں تو خوف کم اور وہم زیادہ ہوتا ہے اور یہی وہم ہمارے خوف کی اصل بنیادہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے اعصاب پر قابو پالیں اور وہم کو........
