Kam Umri Ki Shadi, Qanoon Aur Fitrat
کم عمری کی شادی، قانون اور فطرت
یہ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارے کی کہانی ہے۔ والد اپنی بیٹی کو لینے آئے تو دیکھا کہ وہ اجنبی لڑکوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ فری اور حدود سے تجاوز کر رہی ہے۔ گھر آ کر والدین نے سمجھانے کی کوشش کی تو بچی رو دی۔ اس کا کہنا تھا اس کی صرف دوستی ہے اور وہاں سب ایسے ہی ہیں۔ کچھ مہینوں بعد یہ دوستی اذیت میں بدل گئی اور والدین کو نفسیاتی ڈاکٹر، ادارے کی انتظامیہ اور پولیس کی مدد لینا پڑی۔ والدین نے بچی کو نفسیاتی صورت حال سے نکالنے کے لیے نکاح کا فیصلہ کیا، مگر انہیں بتایا گیا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی جرم ہے۔
یہ کسی ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے شہروں، گاؤں، گلی محلوں اور تعلیمی اداروں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔ پہلے وفاقی حکومت نے اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی پر پابندی لگائی تھی اب پنجاب حکومت نے بھی کم عمری کی شادی پر پابندی اور اسے فوجداری جرم قرار دینے کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ دونوں حکومتوں کی طرف سے یہ پابندی ایک گہرے فکری، تہذیبی اور مذہبی تصادم کی علامت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی پر سزا مقرر کر دی گئی ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے ایک ایسا پیمانہ مقرر کیا ہے جو نہ فطرت سے ہم آہنگ ہے، نہ معاشرتی حقائق سے اور نہ ہی اسلامی تصورِ نکاح سے۔
اسلام نے نکاح کو محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بنایا بلکہ اسے انسانی زندگی کے فطری اور اخلاقی تقاضوں کا محافظ قرار دیا ہے۔ بلوغت خواہ وہ بارہ سال کی عمر میں ہو یا تیرہ میں، انسانی وجود میں ایک تبدیلی برپا کر دیتی ہے۔ جسم بدلتا ہے، جذبات بیدار ہوتے ہیں، خواہشات انگڑائیاں لیتی ہیں اور اگر اس مرحلے پر........
