Ilm o Fikr Aur Riwayat Ka Ameen
ہر ملک اور ہر سماج کے علمی منظر نامے پر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی تمہید، تعارف اور کسی رسمی تعریف کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کی پہچان ان کے القابات نہیں بلکہ ان کے کام ہوتے ہیں۔ ان کی آواز دھیمی مگر اثر گہرا ہوتا ہے۔ وہ منظر پر کم اور پس منظر میں زیادہ رہ کر علم و امن کی شمعیں روشن کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کسی اشتہار کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ وقت خود ان کا تعارف بن جاتا ہے۔ وہ شور کے زمانے میں خاموشی سے علمی وفکری روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کا کام وقتی داد کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ادارے نہیں بناتے بلکہ ادارے خود ان کے گرد تشکیل پاتے ہیں۔ علمی دیانت، فکری سنجیدگی اور اخلاقی وقار ان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف ہوتے ہیں۔ یہ لوگ تاریخ کے صفحوں پر نہیں بلکہ تاریخ کے ضمیر میں جگہ پاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد شہباز منج بھی انہی خاموش مگر گہرے اثرات رکھنے والی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کسی رسمی تعارف یا تعریفی جملوں کے محتاج نہیں بلکہ ان کی اصل شناخت ان کا علمی سفر، تدریسی خدمات، تحقیقی کاوشیں اور فکری اثرات ہیں جو بذات خود ان کا تعارف ہیں۔ ڈاکٹرصاحب صرف ایک استاد اور محقق نہیں بلکہ ایک فکری روایت اور تاریخی تسلسل کے وارث بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کو محض ایک فرد کے طور پر دیکھنا محدود نقطہ نظر ہوگا کیونکہ ان کی زندگی اور خدمات متعدد جہات پر محیط ہیں اور ان کا اثر طالب علموں، محققین اور علمی حلقوں میں واضح محسوس کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کا تعلق پنجاب کے منج راجپوت خاندان سے ہے جس کی تاریخ محض جاگیردارانہ حیثیت یا سماجی مقام تک محدود نہیں بلکہ یہ خاندان صدیوں سے عسکری، سیاسی اور سامراج مخالف جدوجہد میں اپنی پہچان رکھتا آیا ہے۔ ان کے پردادا نواب زادہ رحمت........
